
اسلام آباد/کراچی /لاہور/لاڑکانہ/جیکب آباد/ پشاور/ کوئٹہ/ ( نمائندگان جسارت )امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پرلوڈشیڈنگ، مہنگی بجلی اور ظالمانہ بجٹ کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد‘راولپنڈی‘ لاہور‘پشاور‘ کراچی ‘کوئٹہ‘جیکب آباد سمیت ملک بھر میں شدیداحتجاج کیا گیا‘ واپڈا‘ پانی فراہمی کے اداروں کے باہر کارکنان کا مظاہرہ‘سلیب سسٹم ختم‘ اشرافیہ کی مفت بجلی بند ‘ آئی پی پیز سے معاہدے پر نظرثانی ‘زاید ٹیکس ختم ‘ یکساں نوٹس کی بنیاد پر قیمت وصول کرنے کامطالبہ۔مظاہرین سے سیکرٹری جنرل امیر العظیم، نائب امیر لیاقت بلوچ، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، سیکرٹری جنرل کے پی عبدالواسع و دیگر قائدین نے خطاب کیا۔مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ و دیگر قائدین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پشاور میں پیسکو ہیڈکوارٹ کے سامنے ہونے والے مظاہرے سے صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع نے خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی جاوید قصوری نے ساہیوال میں واپڈا آفس کے باہر مظاہرہ سے خطاب کیا۔ امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان ڈاکٹر صفدر ہاشمی نے ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کے دفتر کے باہر اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے آئیسکو دفتر کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد سے خطاب کیا۔ چارسدہ میں امیر جماعت اسلامی چارسدہ شاہ حسین ایڈووکیٹ نے مظاہرے کی قیادت کی۔ کراچی، ڈی جی خان، فیصل آباد، حیدرآباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی، نوشکی، حب، لسبیلہ، و دیگر شہروں میں بھی واپڈا دفاتر کے باہر مظاہرے کیے گئے۔کہا کہ بجلی چوری، لائن لاسز اور اوور بلنگ کی ذمہ دار واپڈا، کے الیکٹرک اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ہیں‘آئی پی پیز کی بھتا خوری اور ہولناک معاہدے مہنگی بجلی کا سبب ہیںیہ امر حیران کن اور حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب سے زیادہ ہے لیکن دن بہ دن مہنگی ہوتی بجلی اور لوڈشیڈنگ سے عوام کی زندگی اجیرن ہے‘ حکمرانوں کی چھتری تلے کرپٹ اور منہ زور اشرافیہ مفت بجلی، مفت پیٹرول و گیس اور لگژری گاڑیاں استعمال کرتا ہے اور سارا بوجھ غریب، متوسط طبقہ پر ڈال دیا جاتا ہے‘ سندھ میں وڈیرے اور حکومتی مافیا بجلی چوری کرتے ہیں اور عذاب عام آدمی کے لیے پیدا کردیا گیا ہے‘ جماعت اسلامی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی‘ قومی بجٹ کی منظوری کے بعد مہنگائی، بے روزگاری، افراطِ زر اور ٹیکسوں کا فلڈ گیٹ کھل جائے گا‘وفاقی اور صوبائی حکومتیں چاہیں فارم 47 کی ہوں یا فارم 45 کی، عوام کے لیے ڈراؤنا خواب بن گئی ہی۔حزب اللہ جھکڑو، زبیر حفیظ شیخ، سلطان لاشاری بھی موجود تھے،۔ لیسکو ہیڈکوارٹر کے باہر ہونے والے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے کہا کہ جب بجلی کا نظام واپڈا کے ایک محکمہ کے زیر اثر تھا، تو حالات بہت بہترتھے۔ واپڈا کو پاور ڈویژن بنانے کے بعد کرپشن کا بازار گرم ہوا۔ ایسے معاہدے کیے گئے ہیں کہ عقل حیران ہو جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ آئی پی پیز کو ڈالروں میں ادائیگی کی جاتی ہے۔ آئی پی پیز مال بنانے کا دھندہ ہے ۔ حکمران عوام کے مطالبات کے باوجود یہ معاہدے ختم نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ اگر ایسا کیا تو یہ بین الاقوامی عدالتوں میں چلے جائیں گے‘ آئی پی پیز نے پاکستان کے عوام کو لوٹا ہے ،یہ معیشت پر بوجھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مسلسل عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، ہم آنے والے دنوں میں مظاہروں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کریں گے اور واپڈا دفاتر کا گھیرائو کر کے ان کے شفاف آڈٹ کا مطالبہ کریں گے‘ظالم اشرافیہ جینے کا حق چھینے پر اتر آیا ہے جس پر جماعت اسلامی چپ نہیں رہ سکتی۔ تمام سیاسی جماعتیں مہنگائی، بیروزگاری، معاشی بدحالی اور بجلی کے بلوں میں ظالمانہ اضافہ مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔اسلام آباد کے سات مقامات جی ٹی روڈ، سنگ جانی، آئی نائن، جی سکس، بھا رہ کہو، میڈیا ٹاؤن اور لہتراڑ روڈ‘ راولپنڈی شہر اور کینٹ میں6 مقامات کے علاوہ ٹیکسلا‘ واہ کینٹ‘ مندرہ‘ دولتالہ‘ گوجر خان‘ کلر سیداں اور کہوٹہ میں بھی واپڈا دفاتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ مظاہروں کی قیادت جماعت اسلامی کی ضلعی اور مقامی رہنماؤں نے کی، اس موقع پر شہر یوں کی بڑی تعداد نے مظاہروں میں شرکت کی، مظاہرین نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہروں کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی محمد کاشف چودھری، ملک عبدالعزیز، ڈاکٹر طاہر فاروق، غلام سرور تبسم، قاری نور رحمن، سید علی گیلانی، مولانا ولی اللہ بخاری نے کی۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی اسلام آباد اور تاجر رہنما محمد کاشف چودھری نے کہا بجلی بلوں میں بے تحاشا ٹیکسز کو قبول نہیں کرسکتے، قوم کب تک آئی پی پیز معاہدوں کے عوض کیپیسٹی چارجز ادا کرتی رہے گی، ان ظالمانہ معاہدوں پر نظرثانی کی جائے، کیونکہ مہنگی بجلی کے باعث ملک کی صنعتیں بند اور کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا200 یونٹ کے بعد201 یونٹ کی کئی گنا قیمت اور اگلے 6 مہینے اسی ٹیرف پر بل کی وصولی سائنسی ڈاکا ہے، سلیب سسٹم کو ختم اور درجن سے زائد ٹیکسز کو واپس کر کے تمام یونٹس کی قیمت کو یکساں کیا جائے، وزیر داخلہ نے پنجاب میں ہزاروں جعلی یونٹ صارفین پر ڈالنے پر بجلی کے محکموں کی کرپشن بے نقاب کی ہے مگر اس میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی‘ مہنگی بجلی کے باوجود گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا عذاب اب مزید برداشت نہیں کرسکتے،حکومت آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے مہنگے معاہدوں پر فی الفور نظرثانی کرے۔ دریں اثنا امیر جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی سید عارف شیرازی نے ضلعی دفتر سید مودودی بلڈنگ میں زونل امرا کے تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان مسلم لیگ ن نے عوام کو300 یونٹ بجلی مفت دینے کا اعلان اور وعدہ کیا تھا مگر افسوس کہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے بعد وہ اپنا وعدہ بھول گئے ہیں‘ سید عارف شیرازی نے کہا کہ حکمراں ہوش کے ناخن لیں‘ بے تحاشا ٹیکسوں اور بجلی کے بلوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی اپیل پر کے الیکٹرک کی طویل اور غیر اعلانیہ لو ڈشیڈنگ اور پانی کے شدید بحران کے خلاف جمعہ کوکے الیکٹرک کی آئی بی سیز اور واٹر ہائیڈرینٹ ومساجد کے باہر سمیت شہر بھر میں 100 سے زائد مقامات پر مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین نے سندھ حکومت وقبضہ میئر،کے الیکٹرک ، واٹر بورڈ اور نیپرا کے خلاف زبردست غم و غصے کا اظہار کیا اور پرجوش نعرے بھی لگائے ۔مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’’کراچی کو بجلی دو ، کراچی کو پانی دو ،بھاری بل ،بجلی غائب نامنظور نامنظور ،کے الیکٹرک کی غنڈہ گردی ختم کرو، کے الیکٹرک کی حکومتی سپرستی بند کرو،ٹینکر مافیا کو لگام دو ، ٹیکس لیتے ہو پانی تو دو، کراچی کو حق دو، ٹیکس لیتے ہو پانی تو دو، کہانی نہیں پانی دو، ٹینکروں میں نہیں نلکوں میں پانی دو، کے فور منصوبہ مکمل کرو،قبضہ مئیر پانی دو ورنہ کرسی چھوڑ دو، واٹر بورڈ کے راشی افسران کو برطرف کرو، کراچی کو جینے کا حق دو پانی دو بجلی دو، و دیگر نعرے اور مطالبات درج تھے۔دریں اثناء امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں شدید گرمی و ہیٹ ویوز میں بھی بد ترین لوڈ شیڈنگ اور پانی کے شدید بحران پر حکومت ،نیپرا اور کے الیکٹرک کی نااہلی و ناقص کارکردگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کے الیکٹرک 18 گھنٹے سے زائد طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کررہی ہے،حکومت اور نیپرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ کے الیکٹرک کو پابند کرے اور لوڈ شیڈنگ سے باز رکھے لیکن افسوس کہ ایسا نہیں کیا جارہا اور المیہ یہ ہے کہ نیپرا، کے الیکٹرک اور حکومت کا گٹھ جوڑ ہے جس نے کراچی کے عوام کا جینا مشکل کردیا ہے، جماعت اسلامی نے عوامی مزاحمتی تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی کراچی کے عوام سے سیاسی انتقام نہ لے،اہل کراچی کو پانی دیا جائے، کے فور منصوبہ فی الفور مکمل کیا جائے، پانی چوروں، ٹینکر مافیا اور غیر قانونی ہائیڈرینٹ کی سرکاری سرپرستی ختم کی جائے۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کا سسٹم بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے 16سال میں کراچی کے لیے ایک گیلن پانی کا اضافہ نہیں کیا، عبد الستار افغانی نے حب ڈیم سے کراچی کے لیے پانی کا انتظام کیا تھا پھر نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے K-3منصوبہ مکمل کیا۔کے فور منصوبے کے تحت 650ملین گیلن یومیہ کراچی کو ملنا چاہیے تھا لیکن وہ آج تک نہیں مل سکا، کے فور میں کٹوتی کر کے پانی آدھا کر دیا ہے لیکن وہ بھی تاحال مکمل نہیں کیا گیا۔ کراچی میں ٹینکر مافیا بڑے زورو شور سے کام کر رہی ہے اور اس کی سرپرستی سندھ حکومت، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کر رہی ہے، پیپلز پارٹی نے کرپشن اور نا اہلی کی انتہائی کردی ہے،شہر میں صورتحال یہ ہے کہ ٹینکروں میں پانی آتا ہے لیکن نلکوں میں پانی نہیں آتا، رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے ہائیڈرینٹ کے ذریعے 1 ارب 86 کروڑ روپے کمائے،کراچی وطن عزیز کا معاشی انجن ہے، جسے وفاق اور صوبے نے نظر انداز کردیا ۔انہوں نے مزیدکہاکہ اگر شہر کا درجہ حرارت 37سینٹی گریڈ پر چلاجائے تو کے الیکٹرک کا بوسیدہ ترسیلی نظام خراب ہونے لگتا ہے اور اس کے فیڈر ٹرپ ہوجاتے ہیں، جس کے باعث شہریوں کو 12سے 18گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھگتنا پڑتا ہے۔شدید گرمی و حبس کے موسم میں بھی اس وقت ایسے علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جنہیں خود کے الیکٹرک نے لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ کیا ہے۔ شہر بھرمیں ہونے والے مظاہرے سخی حسن ہائیڈرینٹ نارتھ کراچی ،آئی بی سی حیدری مارکیٹ، جامع مسجد ناظم نمبر 1، جامع مسجد ناظم نمبر2،مسجد احباب ناظم آباد نمبر3،الہدی ٰ نارتھ ناظم آباد،اجمیر نگری ،الاخوان نیو کراچی، عبد العزیز ،فاروق اعظم ، گلستان سرجانی (گوٹھ)،منظور کالونی ، اختر کالونی ، محمود آباد ، چنیسر گوٹھ ، پی ای سی ایچ ایس ، لائنز ایریا ، سبزی منڈی ،پٹیل پاڑا،اورنگی ٹاؤن پونے پانچ،شاہ ولی اللہ نگر، اسلامیہ کالج، خالد بن ولیدسمیت دیگر درجنوں مقامات شامل ہیں ۔
