
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) بحیرئہ روم میں کشتی ڈوبنے سے 36تارکین وطن ہلاک ہوگئے،جب کہ کشتی میں سے صرف 12افراد کو زندہ بچایا جاسکا۔ ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کشتی میں تقریباً 70 افراد سوار تھے،جن میں 24سے زیادہ بچے بھی شامل تھے۔ ایک زندہ بچ جانے والا شخص دوران علاج دم توڑ گیا۔ اطالوی حکام کے مطابق امدادی تنظیم کے کارکنوں نے بتایا کہ مسافر لائف جیکٹ کے بغیر سفر کر رہے تھے اور کوئی کشتی ان کی مدد کے لیے نہیں رکی ۔ دوران سفر کشتی کا انجن پھٹ گیا۔ زندہ بچ جانے والوں کو روسیلا آئیونیکا کی بندرگاہ پر منتقل کر دیا گیا ،جہاں دوران علاج ایک مسافر ہلاک ہوگیا۔ مقامی حکام نے بتایا کہ پانی سے 35 لاشیں نکال لی گئی ہیں،جن میں 15 بچے بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت اور اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے کہا کہ مہاجرین ایران، شام اور عراق سے آئے تھے۔ کشتی ترکیہ سے روانہ ہوئی اور اٹلی کے جنوبی ساحل سے تقریباً 120 سمندری میل کے فاصلے پر ڈوب گئی۔ ادھر عراقی کردستان میں سیکورٹی فورسز نے کشتی ڈوبنے کے واقعے کے بعد انسانی اسمگلنگ میں ملوث 4مشتبہ افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب فرانسیسی حکام نے کہا ہے کہ برطانیہ پہنچنے کی کوشش کرنے والے 150 سے زائد تارکین وطن کو سمندر کی بے رحم موجوں سے بچا لیا گیا ۔ تارکین وطن 2مختلف کشتیوں میں سوار ہو کر انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جنہیں آبنائے ڈوور کے قریب ریسکیو کیا گیا۔ پہلی کشتی ڈنکرک کے قریب گریولائنز کے علاقے سے روانہ ہوئی تھی اور سمندر میں چند گھنٹوں کے سفر کے بعد ہی مدد طلب کر لی گئی تھی۔ ریسکیو اہلکاروں نے 77 افراد کو بحفاظت کیلس پہنچا دیا ۔ دوسری کشتی میں 76 تارکین وطن سوار تھے، جنہیں فرانسیسی بندرگار ہولوگن سر میر لایا گیا۔ واضح رہے کہ رواں سال 12 ہزار 313 افراد غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہوئے ہیں۔
