فیصل آباد(جسارت نیوز)آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن پنجاب کے نائب صدر پنجاب چودھری عبدالعزیزبھٹی،ڈویژنل صدر چودھری واجدعباس گجر، راناسجاد خاں ڈویژنل چیئرمین،سینئرنائب صدرو مختار حسین بلوچ،سینئرنائب رانا شہزاد اصغر ، چودھری افتخارگل ، چودھری علی شیرگورایہ،چودھری محمداسلم گجر،ملک محمدشفیق اعوان، رانامحمد شاہد اکرام، راناخالدمحمود،چودھری غضنفرعلی وریا،سینئرنائب صدر محمد عمران ڈسٹرکٹ ایجوکیشن،صدر اسکول ونگ ضیغم محمودبھٹی،نائب صدرچودھری محمدافضل پنوں ، حافظ حمادالحسن پنوں،محمداکرم،محمدخالد،زین العابدین ہنجرا، مدثرحسین جٹ، رانابابرعلی، سیدسجادعلی شاہ،چودھری ارشدعلی بھٹی،میاں طاہراقبال،جنرل سیکرٹری چودھری جاویدانجم ڈھلوں،ایڈیشنل جنرل سیکرٹری چودھری کاشف زمان گجر ،ایڈیشنل جنرل سیکرٹری چودھری ریحان الیاس ڈھلوں ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری رانا افتخارعلی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری رانا امجدعلی ، چودھری محمد بلال جٹ وائس چیئرمین، فنانس سیکرٹری راناعمران ندیم، پریس سیکرٹری ملک ذوہیب علی ، ایڈیشنل پریس سیکرٹری ملک محمدعلی،آفس سیکرٹری رانانسیم الحسن نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوںمیں اضافہ ظلم ہے ،ملک کا کھربوں روپے لوٹنے والے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ سرکاری ملازمین اور عوام کے زخموںپر نمک پاشی ہے غریب عوام اپنے گھروں کے سامان بیچ کر بجلی کے بل ادا کررہے ہیں اورظالم اورعوام دشمن حکومت اپنی مراعات میں اضافہ کررہی ہے حکمران عوام کے خون پسینے کی کمائی ٹیکسوں کی مد میں لوٹ کر اپنے شاہانہ پروٹوکول پر خرچ کر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔ بجلی کے بلوں پر 31مختلف اقسام کے ٹیکس نافذ ہیں، عوام بلوں کی ادائیگی کے لیے اپنا قیمتی سامان فروخت کرنے پر مجبور ہیں بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ، بلوں میں ہوشربا اضافے اور مایوس کن بجٹ نے عوام کا بھرکس نکال دیاجس کے خمیازہ موجودہ حکومت کو بھگتنا پڑے گا، تنخواہوںمیں اضافہ کرکے ان پر ٹیکس لگانا ظلم عظیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک کے اندر شارٹ فال ساڑھے 6 ہزار سے تجاوز کر چکا ہے، معاملات زندگی بری طرح متاثر اور صنعتیں بند ہو رہی ہیں جبکہ دوسری جانب بلوں نے عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ نا اہل حکمرانوں کا عوام کو دیا جانے والا بجٹ مایوس کن بجٹ تھا، جس میں قوم کو محض طفل تسلی دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم ٹو کی حکومت بھی پی ڈی ایم ون کا تسلسل ہی ہے۔ بجٹ میں جس طرح عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کی گئی ہے اس سے قوم کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی میں اضافے کے تناسب سے اضافہ کیا جانا چاہیے تھا۔ عوام کو ریلیف نام کی کوئی چیز میسر نہیں۔ حالیہ بجٹ آئی ایم ایف اور اشرافیہ کا بجٹ ہے جس کو قوم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے اور تنخواہوں پر لگائے جانے والے ٹیکس کو واپس نہ لیاتو سرکاری ملازمین دوبارسٹرکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پرمجبورہوں گے۔
