English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مخصوص نشستیں کیس: پی ٹی آئی پہلے بھی انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروا سکی، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک سال کا وقت لینے کے باوجود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروا سکی۔

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ میں 30 منٹ میں دلائل مکمل کرلوں گا، میں 4 قانونی نکات عدالت کے سامنے رکھوں گا، پارٹی سرٹیفکیٹس جمع کرانے کے وقت پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں تھا۔ الیکشن میں سرٹیفکیٹ گوہر علی خان کے دستخط سے جمع کرائے گئے، پی ٹی آئی نے اس وقت انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں کرائے تھے، فارم 66 جمع کراتے پی ٹی آئی کا کوئی ڈھانچہ نہیں تھا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں سرٹیفکیٹ گوہر علی خان کے دستخط سے جمع کرائے گئے، پی ٹی آئی نے اس وقت انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں کرائے تھے، فارم 66 جمع کراتے پی ٹی آئی کا کوئی ڈھانچہ نہیں تھا۔ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات 23 دسمبر کو کالعدم قرار دے دیے تھے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ 26 دسمبر کو معطل ہوچکا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استعفار کرتے ہوئے کہا کہ غلطی کہاں سے ہوئی اور کس نے کی ہے یہ بھی بتائیں، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کئی امیدواروں نے پارٹی وابستگی نہیں لکھی اسی وجہ سے امیدوار آزاد تصور ہوگا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے جواب دیا کہ اس معاملے پر میں اور آپ ایک پیج پر ہیں جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پیچ پھاڑ دیں مجھے ایک پیج پر نہیں رہنا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کرائے، کئی سالوں سے انٹراپارٹی انتخابات کا معاملہ چل رہا تھا، پی ٹی آئی خود وقت مانگتی رہی اور الزام سپریم کورٹ پر لگا رہے ہیں، یا تو کہیں پی ٹی آئی نے فٹبال کی طرح انجری ٹائم یا اضافی ٹائم لے رکھا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک سال کا وقت لینے کے باوجود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروا سکی۔

واضح رہے کہ  6 مئی سپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کر تے ہوئے معاملہ لارجر بینچ کو ارسال کردیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے