English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مخصوص نشستوں کا کیس: پی ٹی آئی نے خود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کرائے، چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک سال کا وقت لینے کے باوجود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروا سکی۔

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی بینچ اپیل کی سماعت کر رہا ہے۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ میں 30 منٹ میں دلائل مکمل کرلوں گا، میں 4 قانونی نکات عدالت کے سامنے رکھوں گا، پارٹی سرٹیفکیٹس جمع کرانے کے وقت پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں تھا۔ الیکشن میں سرٹیفکیٹ گوہر علی خان کے دستخط سے جمع کرائے گئے، پی ٹی آئی نے اس وقت انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں کرائے تھے، فارم 66 جمع کراتے پی ٹی آئی کا کوئی ڈھانچہ نہیں تھا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکشن میں سرٹیفکیٹ گوہر علی خان کے دستخط سے جمع کرائے گئے، پی ٹی آئی نے اس وقت انٹرا پارٹی الیکشن قانون کے مطابق نہیں کرائے تھے، فارم 66 جمع کراتے پی ٹی آئی کا کوئی ڈھانچہ نہیں تھا۔ الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات 23 دسمبر کو کالعدم قرار دے دیے تھے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ 26 دسمبر کو معطل ہوچکا تھا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استعفار کرتے ہوئے کہا کہ غلطی کہاں سے ہوئی اور کس نے کی ہے یہ بھی بتائیں، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کئی امیدواروں نے پارٹی وابستگی نہیں لکھی اسی وجہ سے امیدوار آزاد تصور ہوگا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے جواب دیا کہ اس معاملے پر میں اور آپ ایک پیج پر ہیں جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پیج پھاڑ دیں مجھے ایک پیج پر نہیں رہنا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے خود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کرائے، کئی سالوں سے انٹراپارٹی انتخابات کا معاملہ چل رہا تھا، پی ٹی آئی خود وقت مانگتی رہی اور الزام سپریم کورٹ پر لگا رہے ہیں، یا تو کہیں پی ٹی آئی نے فٹبال کی طرح انجری ٹائم یا اضافی ٹائم لے رکھا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف ایک سال کا وقت لینے کے باوجود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروا سکی۔

واضح رہے کہ  6 مئی سپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کر تے ہوئے معاملہ لارجر بینچ کو ارسال کردیا تھا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ بی اے پی کو مخصوص نشستیں کیوں دی گئیں، بی اے پی نے تو مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہیں کرائی، جس پر ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے بتایا کہ بی اے پی نے قومی اسمبلی اوربلوچستان اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا بی اے پی سے متعلق حکم کہاں ہے کیا کوئی اجلاس ہوا تھا، جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ایک فائل موجود ہے مگربی اے پی سے متعلق کوئی اجلاس نہیں ہوا تھا، بی اے پی سے متعلق فیصلہ الیکشن کمیشن کے موجودہ ممبران نے نہیں کیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کو نااہل قرار دیا، اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں نااہلی کی بات نہ ہو تو کیا ہوگا، جس پر وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات نہ کرانے کے باعث پی ٹی آئی کے سرٹیفکیٹس غیر مؤثر ہوگئے۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت یقینی بنانے کے لیے مخصوص نشستیں رکھی گئیں، مخصوص نشستیں صرف سیاسی جماعتوں کو متناسب نمائندگی سے ہی مل سکتی ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ خواتین کو پہلی مرتبہ قومی و صوبائی اسمبلوں کےساتھ سینیٹ میں بھی بڑی تعداد میں نمائندگی 2002 میں ملی، سال 1990 سے 1997 تک خواتین کی مخصوص نشستیں ختم کر دی گئی تھیں، سترہویں ترمیم میں خواتین کی مخصوص نشستیں شامل کی گئیں۔ متناسب نمائندگی کے اصول کا مقصد ہی نشستیں خالی نہ چھوڑنا ہے، مخصوص نشستوں کے لیے آزاد امیدواروں کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔

اس پر جسٹس عائشہ ملک نے دریافت کیا کہ یہ بات آپ کس بنیاد پر کر رہے ہیں؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ جو فارمولہ آپ بتا رہے ہیں وہ الیکشن رولز کے سیکشن 94 سے متصادم ہے۔ کیا مخصوص نشستوں کے لیے 2002 سے یہی فارمولہ چل رہا ہے؟ جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ سال 2002 میں الیکشن ایکٹ 2017 نہیں تھا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مخصوص نشستوں کا فارمولہ نئے قانون میں بھی تبدیل نہیں ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے