English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹرمپ کو سابق صدر کی حیثیت سے مجرمانہ استثنیٰ حاصل ہے، امریکی سپریم کورٹ

واشنگٹن ڈی سی _ امریکہ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ امریکی صدور کو اپنے دورِ حکومت میں کیے گئے سرکاری اقدامات کے خلاف مجرمانہ الزامات کے مقدموں کا سامنا کرنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے دعوے سے متعلق ایک مقدمے میں اعلیٰ ترین عدالت نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدور اپنے دفتر کی "بنیادی” ذمہ داریاں نبھانے کے لیے فوجداری استغاثہ سے مکمل استثنیٰ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں سال 2020 کے الیکشن کے نتائج الٹنے کی کوشش کے معاملے پر استغاثہ کی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ کے حامیوں نے چھ جنوری 2021 کو کانگریس کی عمارت پر اس وقت حملہ کر دیا تھا جب وہاں موجودہ صدر جو بائیڈن کی سال 2020 کے انتخابات میں کامیابی کی توثیق کا عمل جاری تھا۔

اب جب کہ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر صدارتی الیکشن کی دوڑ میں شامل ہیں اور سپریم کورٹ کے ٖفیصلے کا فوری طور پر اثر یہ ہو گا کہ ان کے خلاف وفاقی الزامات کا فیصلہ 2024 کے انتخابات سے پہلے نہیں کیا جائے گا۔

ٹرمپ رواں سال ہونے والے امریکی الیکشن میں ری پبلیکن پارٹی کے ممکنہ امیدوار ہیں۔ اگر وہ الیکشن جیت جاتے ہیں تو وہ استغاثہ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے قابل ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو تیسری صدارتی مہم میں قانونی مشکلات کا سامنا ہوگا، تجزیہ کار





please wait



No media source currently available

نو ارکان پر مشتمل امریکی سپریم کورٹ کے چھ قدامت پسند ججوں نے ٹرمپ کے استثنیٰ کے فیصلے کے حق میں رائے دی جسے چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریری طور پر جاری کیا۔ عدالت عالیہ کے لبرل ونگ کے تین ارکان نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔

اس طرح ججوں کی اکثریت نے ٹرمپ کے خلاف ان کئی اقدامات کے لیے قانونی چارہ جوئی کو مسترد کر دیا جو انہوں نے انتخابات کے بعد کیے تھے۔ ان میں ٹرمپ کی جانب سے محکمۂ انصاف کے ایک اہلکار کو برخاست کرنے کی دھمکی دینا بھی شامل تھا۔

محکمۂ انصاف کے اہلکار سے کہا گیا تھا کہ وہ یہ جھوٹا دعویٰ کرے کہ محکمہ بائیڈن کے حق میں ووٹ دینے والی کچھ ریاستوں میں ممکنہ دھوکہ دہی کی تحقیقات کر رہا ہے۔

تاہم، عدالت نے اس امکان کو کھلا چھوڑ دیا کہ استغاثہ استثنیٰ کے مفروضے کی "تردید” کر سکتا ہے جیسا کہ دیگر سرکاری کارروائیوں کے سسلے میں ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس پر فیصلہ کرنے کے لیے اسے ماتحت عدالت میں بھیج دیا ہے۔


سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات، 30 مئی 2024 کو نیویارک کے، مین ہٹن کرمنل کورٹ میں 34 فوجداری جرائم میں قصور وار پائے جانے کے بعد میڈیا سے بات کرنے لیے عدالت سے باہر آتے ہوئے۔اے پی فوٹو

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات، 30 مئی 2024 کو نیویارک کے، مین ہٹن کرمنل کورٹ میں 34 فوجداری جرائم میں قصور وار پائے جانے کے بعد میڈیا سے بات کرنے لیے عدالت سے باہر آتے ہوئے۔اے پی فوٹو

اکثریتی ججوں نے نوٹ کیا کہ صدر کی طرف سے کی جانے والی ہر کارروائی "آفیشل” نہیں ہوتی۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی ماتحت عدالت پر منحصر ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ کیا اس طرح کی کارروائیاں سرکاری ہونے کے زمرے میں آتی ہیں یا نہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے سے لگتا ہے کہ یہ فیصلہ ماتحت عدالت کو کسی اقدام کے سرکاری ہونے یا نہ ہونے کا تعین کرتے ہوئے اس بات کی ایک وسیع تعریف استعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔

ججوں نے تحریر کیا کہ ان کی طرف سے امریکی صدر کو حاصل تسلیم کیا گیا استثنیٰ صدر کی سرکاری ذمہ داریوں کے بیرونی دائرے تک پھیلا ہوا ہے اور ان اعمال کا احاطہ کرتا ہے جو کہ ‘بظاہر یا واضح طور پر” صدر کے اختیارات سے متجاوز نہ ہوں۔

لبرل ججوں کا فیصلے سے اختلاف

عدالت کے لبرل ونگ نے اختلاف کرتے ہوئے اکثریتی ججوں کے فیصلے پر شدید تنقید کی۔ ان کی طرف سے اختلافی نوٹ ایسوسی ایٹ جسٹس سونیا سوٹومائیر نے لکھا۔

جسٹس سوٹومائیر نے لکھا کہ یہ فیصلہ امریکی آئین اور نظامِ حکومت کے اس بنیادی اصول کا مذاق اڑاتا ہے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔

انہوں نے تحریر کیا کہ اس بات سے قطع نظر کہ استثنیٰ کو مفروضہ یا مطلق کے طور پر بیان کیا جائے اکثریتی حکمرانی کے تحت، صدر کا کسی بھی مقصد کے لیے کسی بھی سرکاری طاقت کا استعمال یہاں تک کہ سب سے زیادہ بدعنوان بھی استغاثہ سے محفوظ ہے۔”

جسٹس سوٹومائیر نے کئی فرضی منظر ناموں کی طرف اشارہ کیا جس میں ایک صدر اپنے سرکاری اقدامات کو بدعنوانی سے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جیسا کہ کسی سیاسی حریف کے قتل کا حکم دینا، فوج کو بغاوت میں اس کا ساتھ دینے کی ہدایت کرنا، یا کسی کو معافی دینے کے لیے رشوت قبول کرنا۔

انہوں نے تحریر کیا، "اپنی جہوریت کے لیے خوف کے ساتھ میں اس فیصلے سے اختلاف کرتی ہوں۔”

ٹرمپ کا فیصلے پر جشن

سپریم کورٹ کے ٖفیصلے کے فوراً بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر اس فیصلے کو آئین اور جمہوریت کے لیے ایک بڑی فتح قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ امریکی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

اعلیٰ عدالت کے ٖفیصلے کے بعد ٹرمپ کو کئی دیگر مقدمات کا بھی سامنا ہے۔

"ہش منی” کیس میں ٹرمپ کو کاروباری ریکارڈ کو غلط ثابت کرنے کے 34 الزامات کا مرتکب پایا گیا تھا۔ استغاثہ نے کہا تھا کہ ٹرمپ نے ایک عورت سے افیئر پر خاموشی اختیار کرنے کے لیے دی گئی رقم کو چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ کو غلط طور پر پیش کیا تھا۔

البتہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کے خلاف دیگر مقدمات بھی ختم ہو جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے