حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)اسرائیلی درندگی کو روکنے اور فلسطینی مسلمانوں کی حفاظت کے لیے پاکستان عملی اقدامات اٹھائے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ آستانہ میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کا یہ کہنا کہ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے اور فلسطینی مسلمانوں کو انسانیت سوز مظالم کا سامنا ہے یقینا حقیقت پر مبنی تبصرہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت خداداد پاکستان جو اللہ تعالی کے فضل و کرم سے مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہے اور جس کے پاس بہترین میزائل ٹیکنالوجی اور پیشہ وارانہ مہارت کی حامل فوج بھی موجود ہے، اس ملک کے چیف ایگزیکٹیو کا غزہ میں فوری غیر مشروط جنگ بندی کا محض مطالبہ کرنا نہ صرف ناکافی بلکہ حکومت پاکستان کی کم ہمتی کا واضح ثبوت ہے۔ دوسری طرف
اسرائیل جنگ کو پھیلا کر پوری دنیا کا امن و امان تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ غزہ پر تقریبا 9 ماہ سے مسلسل شدید ترین بمباری کی جا رہی ہے۔ گریٹر اسرائیل کے ناپاک صہیونی منصوبہ کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اسرائیل کو امریکہ، مغربی یورپ کے اکثر ممالک اور بھارت کی مکمل معاونت حاصل ہے۔ پاکستان کے حوالے سے اسرائیل کے مذموم عزائم پر تبصرہ کرتے ہوئے امیر تنظیم نے کہا کہ 1967 کی جنگ میں فتح کے بعد پیرس میں جشن مناتے ہوئے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریان نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کا خطرناک ترین حریف پاکستان ہے۔ پھر یہ کہ کچھ عرصہ قبل موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایک انٹرویو میں اس خواہش کا اظہار کر چکا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی دانت توڑ دیئے جائیں۔ لہذا ہمارے حکمران اور مقتدر طبقات صورتِ حال کی نزاکت کا احساس کریں۔ ملک کی اندرونی اور خارجہ پالیسیاں وضع کرتے وقت آنے والے دور کے حوالے سے احادیث نبوی ﷺ میں موجود خبروں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان آپس میں گتھم گتھا ہو جائیں اور دونوں ممالک کے اشتراک سے خراساں کا وہ خطہ عملی طور پر تشکیل نہ پاسکے جس کے بارے میں احادیث نبوی ﷺ میں بشارت آئی ہے کہ وہاں سے فوجیں حضرت مہدی کی نصرت کے لیے جائیں گی اور اسی خطہ سے چلنے والی فوجیں ایلیا (یروشلم) میں اسلام کا جھنڈا گاڑ کر پوری دنیا پر دین کو قائم و نافذ کریں گی۔ لہٰذا ہمیں پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی ایٹمی پاکستان بنانا ہوگا۔ اللہ تعالی مسلمان ممالک کے حکمرانوں اور مقتدر طبقات کو صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی عطا فرمائے۔
