
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے عاشورہ کے پیش نظر آج کے دھرنے کو مؤخر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بجلی ٹیرف میں بے تحاشا اضافے اور ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف اسلام آباد میں پوری یکسوئی اور قوت سے 26جولائی کو دھرنا دیا جائے گا، مطالبات کی منظوری تک نہیں اٹھیں گے، کراچی، بلوچستان اور دیگر دوردراز علاقوں سے دھرنے میں شرکت کے لیے قافلے 24اور 25جولائی کو روانہ ہوں گے، سب بیک وقت وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے، دھرنے تک عوامی موبلائزیشن جاری رہے گا،آج تمام شہروں میں کیمپ لگیں گے، 14جولائی کو ملک گیر دھرنے اور مظاہرے ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں زوم پر مرکزی نظم کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مرکزی ذمے داران، صوبائی امرا سمیت بڑے شہروں کی قیادت نے شرکت کی۔ نائب امیر لیاقت بلوچ،سیکرٹری جنرل امیر العظیم، ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ عثمان فاروق، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری اور ڈائریکٹر سوشل و ڈیجیٹل میڈیا سلمان شیخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔امیر جماعت نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب احتجاج میں شرکت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کے دھرنے کی تیاریاں مکمل تھیں، علما کرام کی جانب سے اسے مؤخر کرنے کے لیے رابطے کیے گئے۔ جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنان نے مشاورت کے بعد اسے مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دھرنے میں علما کرام، وکلا، تاجروں، صنعت کاروں، کسانوں اور مزدوروں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ عاشورہ کے بعد عوامی موبلائزیشن کے لیے صوبائی ہیڈکوارٹرز اور بڑے شہروں میں جاؤں گا، ہر شعبے کی نمایاں شخصیات سے ملاقات کی جائے گی، سیاسی پارٹیاں اگر دھرنے میں شرکت کرنا چاہیں تو کوئی قدغن نہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ معیشت تباہی سے دوچار ہے، مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت حال سب کے سامنے ہے، بجلی کے بلوں سے لوگ بلبلا اٹھے ہیں، آنے والے دنوں میں معاشی حالات بدترین ہونے کا خدشہ ہے، صرف غریب ہی نہیں متوسط طبقہ بھی سخت پریشانی میں مبتلا ہے، اطلاعات ہیں کہ حکومت کمرشل ٹیرف میں مزید 8 روپے فی یونٹ اور زرعی یونٹ میں 6 روپے اضافے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، دوسری جانب حکومت نے اپنے انتظامی اخراجات 25فیصد بڑھا دیے، مراعات میں اضافہ کیا گیا، سول و ملٹری بیوروکریسی کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی، حکومت 56ارب روپے روزانہ بینکوں سے قرض لیتی ہے، گزشتہ 10 برس میں آئی پی پیزکو 8344ارب اور اب تک ٹوٹل 42ارب ڈالر کیپسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے ہیں۔ حکمران اپنی مراعات اور عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، فری بجلی، گیس اور پیٹرول استعمال کیا جاتا ہے، بڑی بڑی گاڑیاں ہیں، جاگیردار ٹیکس نہیں دیتے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کا مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ عوام کے حقوق کے لیے پرامن سیاسی و جمہوری مزاحمت ضروری ہو چکی ہے، قوم سے کہتا ہوں کہ اپنے حق کے لیے نکلے، ورنہ حالات بد سے بدتر ہوتے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دھرنے کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈ جاری کریں گے، پوری قوت سے میدان سجے گا۔امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، ہم ملک میں انارکی نہیں چاہتے، عوام کو منظم کر کے ظالم اشرافیہ کے خلاف جمہوری مزاحمت کریں گے۔ حکومت بجلی کے ٹیرف میں کمی لائے، سلیب سسٹم ختم کیا جائے، آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی ہو اور بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر عاید کیے گئے ظالمانہ ٹیکسز واپس لیے جائیں۔
