English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

گجراتیوں میں بھارتی شہریت ترک کرنے کا رجحان زور پکڑ گیا

خوب سے خوب تر کی تلاش انسان کو کہیں بھی سکون سے رہنے نہیں دیتی۔ مالی آسودگی کتنی ہونی چاہیے؟ اس کی کوئی حد مقرر نہیں۔ ہر انسان زیادہ سے زیادہ مال چاہتا ہے تاکہ قدم قدم پر آسودگی ساتھ رہے۔

پاکستان جیسے پس ماندہ ممالک سے لوگ بڑی تعداد میں بیرونِ ملک جاکر وہاں بہتر معاشی امکانات تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ زندگی بھی داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ غیر قانونی طور پر کسی اور ملک میں داخل ہونے میں سو خطرات ہوتے ہیں مگر پھر بھی لوگ یورپ جانے کے لیے یہ راہ چُنتے ہیں۔

گجرات کا سب سے بڑا شہر احمد آباد اس وقت بھارت میں کاروبار کا ایک بڑا مرکز ہے جہاں ملک سے لوگ آکر کام کرتے اور سکونت اختیار کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ بات بہت حیرت انگیز لگتی ہے کہ گجراتی ہی اپنی سرزمین چھوڑیں۔

بھارت کے امیر ترین افراد امبانی اور اڈانی کا تعلق بھی گجرات سے ہے۔ گجرات کے لوگ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور اُن کی ترسیلاتِ زر سے بھارتی قومی خزانہ بھی مضبوط ہوتا ہے اور گجرات کی ترقی میں بھی یہ ترسیلاتِ زر کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

بھارتی شہریت ترک کرکے امریکا، کینیڈا، برطانیہ، یورپ یا آسٹریلیا کی شہریت قبول کرنے کی پشت پر بنیادی تصور اور مقصد وہاں کے بنیادی ڈھانچے سے بھرپور استفادہ کرنا ہے تاکہ معیاری زندگی یقینی بنائی جاسکے۔ بھارت مختلف شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی کے ذریعے بہت کمارہا ہے مگر پھر بھی بھارت میں غربت ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اِس وقت بھی بھارت بھر میں ایک کروڑ سے زائد افراد انتہائی عسرت کے عالم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

جب بھارت کی خوش حال ترین ریاست کے لوگ بیرونِ ملک مقیم ہونے اور اپنی آبائی سرزمین کی شہریت ترک کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پس ماندہ بھارتی ریاستوں کا کیا حال ہوگا۔

بھارت سے بھی ہر سال لاکھوں افراد بیرونِ ملک سکونت اختیار کرنے اور بہتر معاشی امکانات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اِن میں سے بہت سے کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ 

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بھارت کی خوش حال ترین ریاست گجرات کے لوگ بھی بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کرکے بھارتی پاسپورٹ کو سرینڈر کرنے میں غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں۔

ایک عشرے کے دوران گجرات کے کم و بیش پچیس ہزار باشندوں نے بھارتی شہریت ترک کرکے امریکا، برطانیہ، کینیڈا، یورپ اور آسٹریلیا کی شہریت لی ہے اور بھارتی شہریت کو الوداع کہی ہے۔

گجرات سمیت کئی خوش حال اور پس ماندہ بھارتی ریاستوں سے لوگ بڑی تعداد میں اپنے کاروبار سمیٹ کر بھی بیرونِ ملک جارہے ہیں کیونکہ وہاں کا بنیادی ڈھانچا اُن کے لیے زیادہ پُرکشش کاروباری مواقع پیدا کر رہا ہے اور کاروبار کے تیزی سے پنپنے کے امکانات وہاں روشن تر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے