English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اولمپکس، پیرس سے ہزاروں بے گھر افراد کی بے دخلی

فرانس کی حکومت نے دارالحکومت پیرس سے ہزاروں بے گھر افراد کو بے دخل کردیا ہے۔ ان افراد کو بسوں میں بھر کر دوسرے شہروں کی طرف بھیجا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ 26 جولائی سے پیرس اولمپکس کا آغاز ہو رہا ہے۔

بے دخل کیے جانے والوں میں غیر ملکی باشندوں کی اکثریت ہے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کا کہنا ہے کہ اُنہیں سیکیورٹی کے نام پر پیرس سے نکالا جارہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ غیر شادی شدہ یا تنہا رہنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کو خاص طور پر پیرس سے نکالا جارہا ہے۔ سیکیورٹی کے لیے ایسا کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

بیشتر غیر قانونی تارکینِ وطن اور بالخصوص بے گھر افراد کو لیون اور مارسیل بھیجا جارہا ہے۔ ان لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا کہ پیرس سے نکالے جان پر اِنہیں رہائش اور خوراک دی جائے گی مگر اب تک اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ جن لوگوں کو پیرس سے نکالا گیا ہے اُنہیں لیون اور مارسیل کی سڑکوں پر اور گلیوں میں کس مپرسی کے عالم میں دیکھا جاسکتا ہے۔

ایک شخص نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ اولمپک ولیج کے نزدیک ایک متروک سیمنٹ فیکٹری میں رہتا تھا۔ اولمپکس کی سیکیورٹی کے نام پر یہ فیکٹری بھی خالی کرالی گئی۔

فرانس میں 70 لاکھ تارکینِ وطن رہتے ہیں جو ملک کی آبادی کا 10.3 فیصد ہیں۔ فرانسیسی حکومت کو غیر قانونی تارکینِ وطن کے باعث سالانہ 40 ارب یورو کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

فرانس آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن میں نمایاں تعداد افریقی باشندوں کی ہے۔ افریقا میں فرانس کی کئی نوآبادیاں رہی ہیں۔ وہاں سے آنے والوں کی تعداد میں 2000 کے بعد سے مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے