English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے امکان سے یوکرین پریشان 

واشنگٹن : یوکرین کے صدر وولودومیر زیلینسکی کو یہ غم کھائے جارہا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو کیا ہوگا۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ دوبارہ وائٹ ہاؤس کے مکین بنے تو یوکرین کے لیے فوجی امداد بالکل ختم کردیں گے۔ 

یوکرین کو روس کے سامنے ٹِکے رہنے کے لیے امریکا اور یورپ سے بہت بڑے پیمانے پر اقتصادی اور فوجی امداد درکار ہے۔ سوال صرف ڈالرز اور یوروز کا نہیں بلکہ جدید ترین ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کا ہے۔ روس کے پاس گولا بارود بھی زیادہ ہے اور اُس کی فضائی قوت بھی غیر معمولی ہے۔ 

یوکرین کا اسلحہ خانہ کمزور پڑتا جارہا ہے۔ روس نے چند ہفتوں کے دوران حملے بڑھائے بھی ہیں اور اُن میں تیزی بھی آئی ہے۔ کئی علاقوں میں یوکرین کی دفاعی لائن توڑی جاچکی ہے۔ یہ صورتِ حال یوکرین کے ساتھ ساتھ اُس کے پڑوسیوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ یوکرین کو مٹھی میں لینے والا روس اُن پڑوسیوں کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ 

وولودومیر زیلینسکی نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے ارکان سے ملاقات کی ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں یوکرین کے لیے امداد کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد مل سکے۔ یہ ملاقات معاہدہ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کی پچھترویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ تقریبات کے دوران ہوئی۔ 

یوکرین کے صدر چاہتے ہیں کہ اس نازک مرحلے پر امریکا اور یورپ کی طرف سے یوکرین کے لیے امداد میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اُن کا استدلال ہے کہ یورپ کے لیے یوکرین سب سے بڑی دفاعی لائن ہے۔ اگر یوکرین نے اس جنگ میں ہتھیار ڈال دیے تو یورپ کو روس کی دسترس سے بچانا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ 

یورپ کے منتخب ایوانوں میں یوکرین کے لیے فوجی امداد کی بندش کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یورپ میں انتہائی دائیں بازو کے عناصر خالص قوم پرستی کی باتیں کر رہے ہیں یعنی یہ کہ صرف اپنے ملک کو دیکھا جائے، اِدھر اُدھر نہ دیکھا جائے۔ 

امریکی صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی فتح کا امکان بڑھ گیا ہے کیونکہ صدر بائیڈن کی پوزیشن صحت کی خرابی کے باعث بہت کمزور ہوچکی ہے۔ اُن پر انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے مگر وہ بضد ہیں کہ صدارتی انتخاب لڑیں گے۔ اُن کی کارکردگی کے مطمئن امریکیوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوچکی ہے۔ خود ڈیموکریٹس بھی کہہ رہے ہیں کہ اب صدر بائیڈن کو انتخابی دوڑ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے