English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا بھارتی وزیرِ اعظم نے امریکا کو ناراض کردیا؟ 

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے روس کے دورے نے امریکا کو کسی حد تک بے مزا اور ناراض کردیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مودی نے روس کا دورہ کیوں کیا ہے بلکہ اصل اعتراض اس بات پر ہے کہ اُن کے دورے کی ٹائمنگ غلط تھی۔

معروف نیو ویب سائٹ بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق نریندر مودی نے روس کا تین روزہ دورہ کیا ہے جس میں دوطرفہ تعلقات مزید بہتر بنانے اور اشتراکِ عمل کا دائرہ وسیع تر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کا دورہ اس اعتبار سے علامتی حیثیت اختیار کرگیا ہے کہ جس وقت وہ ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے گلے مل رہے تھے تب واشنگٹن میں معاہدہ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی پچھترویں سالگرہ کی تقریبات منعقد کی جارہی تھیں۔ یہ جشن امریکی صدر جو بائیڈن کے کہنے پر منایا گیا۔

امریکی حکام نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم کے روس کے دورے کی ٹائمنگ غلطی تھی اور اس کے نتیجے میں بھارت امریکا تعلقات پر کسی حد تک منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

نریندر مودی نے اس دورے میں کہا کہ روس اُس کا ہر موسم کا ساتھی اور دوست ہے اور انہوں نے ولادیمیر پوٹن کو بھی بھارت کا عظیم دوست قرار دیا۔ یہ بیانیہ امریکا کو بُرا لگا ہے اور حکام نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کا روس کی طرف یوں جھکنا بھارت امریکا تعلقات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم کو روس کا اعلیٰ ترین سول اعزاز بھی دیا گیا ہے۔ یوکرین پر روسی لشکر کشی کے بعد سے بھارتی وزیرِ اعظم کا یہ روس کا پہلا دورہ ہے۔ امریکا میں حکومتی اور غیر حکومتی شخصیات نے بھارتی وزیرِ اعظم کے روس کے دورے پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے لیے نریندر مودی کا روس کا دورہ بہت تکلیف دہ تھا اور یہ بات نئی دہلی کو بتادی گئی ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں بھارت کے لیے امریکا میں آپشنز گھٹ جائیں گے۔

امریکا کے نائب وزیرِ خارجہ کرٹ کیمبل نے جولائی کے آغاز پر بھارتی ہم منصب ونے کواترا سے بات کرکے نریندر مودے کے روس کے دورے کی ٹائمنگ پر اعتراض کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ واشنگٹن میں نیٹو کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر بھارتی وزیرِ اعظم روس کے دورے سے گریز کریں گے۔

نئی دہلی میں امریکا کے سفیر ایرک گارسیٹی نے بھی گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کے روس کے دورے کے تناظر میں کہا تھا کہ بھارت کو امریکا سے دوستی بے وقعت نہیں سمجھنی چاہیے۔

امریکا کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے بھی بھارت کو خبردار کیا ہے کہ روس کو طویل المیعاد دوستی اور اشتراکِ عمل کے لیے زیادہ ترجیح نہ دے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سمیت دنیا کے ہر ملک کو بتادیا ہے کہ روس سے دوستی اور اشتراکِ عمل بڑھانےسے گریز کیا جائے کیونکہ وہ طویل المیعاد بنیاد پر قابلِ اعتبار نہیں۔

جیک سلیون کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپ کے لیے چین سب سے بڑا خطرہ ہے اور روس اُس سے قربت اختیار کر رہا ہے۔ روسی کبھی بھارت کو چین پر ترجیح نہیں دے سکتا۔ ایسے میں بھارت کے لیے روس سے قریب ہونا کسی بھی اعتبار سے زیادہ سُودمند نہ ہوگا کیونکہ چین سے بھارت کے تعلقات زیادہ خوش گوار نہیں۔ اس حوالے سے بھارتی قیادت کو بہت سوچ سمجھ کر چلنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے