اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کوبتایاگیاہے کہ سال 2023 میں 52 لاکھ افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائے، ریٹرن جمع نہ کرانے والوں کی موبائل سمز بلاک کی گئی ہیں، سمز بلاک کئے جانیوالے 86 ہزار افراد نے ریٹرن جمع کرا دیئے ہیں۔
گزشتہ مالی سال ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 1462 ارب روپے ٹیکس اکھٹا ہوا جبکہ وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے حجم کے حوالہ سے حتمی فیصلہ آئندہ ہفتے ہو جائے گا، پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام پیشگی شرائط پوری کر دی ہیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ ومحصولات کااجلاس کمیٹی کے چیئرمین سید نویدقمرکی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، وزیرمملکت خزانہ علی پرویز ملک، سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال، کمیٹی کے اراکین اورمتعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
چیئرمین ایف بی آر ملک امجدزیبرٹوانہ نے کمیٹی کوبتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اندرونی ٹیکسوں میں 37.2 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ڈومیسٹک ٹیکس کی مد میں 6 ہزار 132 ارب روپے اکھٹے ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران درآمدت پر ٹیکسوں کی نمو 17.9 فیصد رہی، درآمدات سے گزشتہ مالی سال کے دوران 3 ہزار 179 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا، اس کے علاوہ انکم ٹیکس کی مد میں 4 ہزار 150 ارب روپے اکھٹے کئے گئے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ 293 ارب روپے کے انکم ٹیکس اقدامات عدالتوں میں چیلنج ہوئے، جبکہ 163 ارب روپے کے ٹیکس معاملات ابھی بھی عدالتوں میں ہیں، اس کے علاوہ گزشتہ مالی سال ایڈوانس ٹیکس کی مد میں 1462 ارب روپے ٹیکس اکھٹا ہوا۔

