امریکی صدر جو بائیڈن کی ضد برقرار ہے۔ وہ بھلکڑ پن کے ہاتھوں اپنے آپ کو تماشے میں تبدیل کرتے جارہے ہیں۔ معاہدہ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں منعقدہ تین نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران اُن کی زبان کئی بار پھسلی۔
نیٹو سربراہ اجلاس سے خطاب کے بعد صدر بائیڈن نے یوکرینی ہم منصب وولودومیر زیلینسکی کو مائیک تھماتے ہوئے کہا کہ اب یوکرین کے صدر پوٹن آپ سے خطاب کریں گے۔ اِس غلطی کا اُنہیں فوراً ہی احساس ہوگیا اور اپنی تصحیح کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا مجھے یقین ہے کہ یوکرین کے صدر زیلینسکی جنگ میں اپنے روسی ہم منصب کو شکست دینے میں کامیاب ہوں گے۔
امریکی نے محض یہ ثابت کرنے کے لیے وہ اب بھی اچھی صحت کے حامل ہیں اور کسی بھی بحران کو سمجھنے اور اُس سے نپٹنے کی بھرپور صلاحیت و سکت رکھتے ہیں، تین روزہ نیٹو سربراہ اجلاس کے بعد سولو یعنی تنہا پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس میں اُنہیں میڈیا پرسنز کے تُند و تلخ سوالوں کا سامنا کرنا پڑا۔
میڈیا کے نمائندوں نے صدر بائیڈن کی صحت کو نشانہ بناتے ہوئے پوچھا کہ دنیا کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے میں وہ کس طور چین اور روس کے صدر کا سامنا کرسکیں گے جو اُن سے کم عمر اور مکمل صحت مند ہیں۔ صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ میں کسی بھی صورتِ حال کا سامنا کرسکتا ہوں اور روسی و چینی ہم منصب سے مذاکرات میں بھی نیچا نہیں پڑوں گا۔
صدر بائیڈن نے سولو پریس کانفرنس میں کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے میں بھرپور کوشش کر رہا ہوں اور یہ کوشش کامیابی پر منتج ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے سبھی کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
اِسی پریس کانفرنس کے دوران ایک موقع پر صدر بائیڈن نے نائب صدر کملا ہیرس کہنے کے بجائے نائب صدر ٹرمپ کہہ دیا۔ اس پر زبردست قہقہہ پڑا۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ میری صحت کے حوالے سے جتنی بھی باتیں کی جارہی ہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ میں صدر کی حیثیت سے کام کرتے رہنے کی پوری اہلیت رکھتا ہوں۔ اور یہ کہ اس وقت ٹرمپ کو شکست دینے کے حوالے سے مجھ سے زیادہ باصلاحیت اور موزوں امیدوار کوئی نہیں۔
صدر بائیڈن کا بھلکڑ پن ایک بار پھر نمایاں ہوگیا ہے۔ وہ بہت سی باتیں بھولتے جارہے ہیں اور اجتماع میں بولتے وقت اُن کا بھلکڑ پن بڑھ جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کا مطالبہ کرنے والوں میں اب ڈیموکریٹ گورنرز اور کانگریس مین بھی شامل ہوگئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ملک نازک موڑ پر ہے۔ عالمی معاملات بہت الجھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں امریکی ایوانِ صدر میں کوئی ایسی شخصیت ہونی چاہیے جو معاملات کو سمجھ سکے اور ڈھنگ سے بات کرسکے۔ اہم فیصلے کسی ایسے آدمی کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جاسکتے جو طویل عمر کے باعث لاغر ہو، اہم معاملات بھول جاتا ہو اور چلنے پھرنے میں بھی دشواری محسوس کرتا ہو۔

