سجاول (نمائندہ جسارت) محکمہ صحت اور انتظامیہ کی نااہلی اور لاپروائی کے باعث خسرہ بیماری وبائی شکل اختیار کر گئی، شہر کے ایک ہی علاقے میں 2 ہفتے کے دوران 2 بچے بیماری سے جاں بحق، رپورٹ کے مطابق گزشتہ تقریباً 2 ہفتے کے دوران خسرہ شدت اختیار کرگیا، شہر کے ایک ہی علاقے کے 2 معصوم بچے شاہد ولد عبدالرحیم شیخ اور ابوبکر ولد نصیب اللہ بھان خسرہ بیماری کے باعث انتقال کر گئے، انتقال کرنے والے بچوں کے لواحقین حاجی عبدالستار شیخ، عبدالرحیم جمیل شیخ و دیگر نے اسپتال انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سول اسپتال میں کوئی سہولیات میسر نہیں، ایک انجکشن لگا کر حیدرآباد یا کراچی ریفر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال والے کہتے ہیں کہ ایمبولینسیں لاشیں لینے کی ذمہ دار نہیں، اس لیے مجبوراً اپنے معصوم بچے کی لاش چنگچی رکشہ میں لے کر اپنے گھر آئے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر صحت سے مطالبہ کیا کہ سول اسپتال انتظامیہ کے خلاف ایکشن اور اسپتال میں خسرہ کا وارڈ قائم کیا جائے اور وہاں علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ مزید جنازے نہ اُٹھا سکیں۔ یاد رہے کہ شیخ محلہ میں اب بھی خسرہ کے 4 مریض موجود ہیں جن میں ایان سنیل، ماہرہ اور ضمیر اپنے گھروں میں موجود ہیں۔
