دْھاکا (صباح نیوز)بنگلا دیش میں کوٹا سسٹم کے خلاف طلبہ کی احتجاجی تحریک نے انتہائی خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ نیوز چیلنجز، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے ۔ پرتشدد احتجاج کے دوران تین دنوں میں 39 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 100 سے زائد پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ بنگلا دیش بھر میں سرکاری ٹی وی سمیت نیوز چینلز کی نشریات بند ہیں۔ البتہ انٹرٹینمنٹ چینلز کی نشریات دکھائی جا رہی ہیں۔ بدھ کو وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بنگلا دیش کے سرکاری ٹی وی کی جس عمارت کے اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر قوم سے خطاب کیا تھا اسے بھی طلبہ نے آگ لگادی۔ برطانوی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ بنگلا دیش کے سرکاری ٹی کی نشریات رکی ہوئی ہیں۔ سرکاری ٹی وی کی عمارت کے احاطے میں کھڑی ہوئی درجنوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی مظاہرین نے آگ لگادی۔ سرکاری ملازمتوں میں کوٹا سسٹم کے خلاف قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور پولیس کے درمیان درجنوں جھڑپیں ہوچکی ہیں۔ گزشتہ روز دارالحکومت ڈھاکا کے علاوہ رنگ پور اور چٹاگانگ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ بنگلا دیش کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیشِ نظر پاکستانی طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہاسٹل میں اپنے کمروں میں رہیں اور مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔ بنگلا دیش کے متعدد شہروں میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ سیل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے کہا ہے کہ حکومت کوٹا سسٹم کی بحالی کا ارادہ نہیں رکھتی اس لیے احتجاج ترک کیا جائے۔
