پاکستان نے ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔
19 جولائی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سرغنہ نور ولی محسود کی ایک خفیہ کال منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ پاکستان میں دہشتگردی کی ہدایات دے رہا تھا۔
خفیہ کال ریکارڈنگ میں نور ولی محسود احمد حسین کو اسپتالوں، سرکاری 19 املاک ،اسکولوں کو دھماکے سے اڑانے، پولیس اور فوجیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی ہدایات دے رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام نے کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور غٹ حاجی کی خفیہ آڈیو لیک کا آفیشل فرانزک کروانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
فارنزک رپورٹ کے بعد نور ولی اور غٹ حاجی کے خلاف ملک کے اندر اور باہر سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، خارجی ٹولے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے بیٹھ کر پاکستان میں براہِ راست دہشت گردی کروانے پر عبوری افغان حکومت سے شدید احتجاج بھی کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان سے دہشتگردوں کو پاکستان کے خلاف مسلسل دہشت گردی اور سنگین جرائم کرنے پر پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔

