لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ آئی پی پیز کی اکثریت کے مالکان حکومت میں ہیں اور عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں، نظیر نہیں ملتی کہ دنیا میں ایسے ظالمانہ معاہدے ہوئے ہوں جو حکمرانوں نے آئی پی پیز کے ساتھ کیے۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ حکمران اشرافیہ غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی کو ہر طریقہ سے لوٹ کر دولت باہر بھیجتی ہے، گزشتہ تین ماہ میں آئی پی پیز کو 450ارب دیے گئے، متعدد آئی پی پیز کو بجلی نہ بنانے پر 10ارب ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔یہ باتیں انہوں نے منصورہ سے جاری کردہ اپنے ایک بیان اور سوشل میڈیا ویب سائٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہیں، معاہدوں کی تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں، اندھے معاہدوں کی قیمت عوام چکا رہے ہیں، ہر یونٹ پر 18روپے کیپسٹی چارجز کی مد میں شامل کیے جاتے ہیں۔ 26جولائی کا اسلام آباد دھرنا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف ہے، ناجائز ٹیکسز واپس لیے جائیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ گنے چنے حکمران خاندانوں نے پورا ملک یرغمال بنا رکھا ہے، غریب کو دو وقت کی روٹی دستیاب نہیں اور یہ ریاستی وسائل پر عیاشیاں کر رہے ہیں، پروٹوکول کے مزے لے رہے ہیں، بجٹ میں تنخواہ دار طبقہ پر 35فیصد مزید ٹیکسز عائد کیے گئے، سول ملٹری بیوروکریسی کو چھوٹ دی گئی، حکومتی اخراجات میں 25فیصد اضافہ ہوا، آئی ایم ایف کو یہ سب ظلم نظر نہیں آتا۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز معاہدے ختم کیے جائیں، ملازمین کو ریلیف دیا جائے، ٹیکسز واپس لے کر چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ بجلی ٹیرف میں سلیب سسٹم کا خاتمہ کیا جائے۔ بھارت میں بجلی کے فی یونٹ کی قیمت 8سینٹ، چین میں 4 سینٹ اور پاکستان میں 16سینٹ ہیں۔ بجلی بلوں میں درجن بھر ٹیکسز شامل ہوتے ہیں، گیس بلوں میں سبسڈی ختم کر دی گئی، پٹرول کے ایک لیٹر پر 70روپے کے قریب لیوی ہے، حکمران فری بجلی، پٹرول اور گیس استعمال کرتے ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی نہ ہوئی تو صنعت کے ساتھ ساتھ زراعت کا بیڑہ بھی غرق ہو جائے گا، کسانوں کو پانی دستیاب نہیں، زرعی بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے عاشورہ کے پیش نظردھرنے کو موخر کیا تھا، پوری یکسوئی سے 26جولائی کو اسلام آباد میں پہنچیں گے، تیاریاں مکمل ہیں، دھرنے میں شرکت کے لیے کراچی اور ملک کے دور دراز علاقوں سے قافلے ایک دو روز قبل روانہ ہوں گے، تمام قافلے بیک وقت اسلام آباد بیٹھیں گے، جو بھی سیاسی جماعت ہمارے دھرنے میں شرکت کرنا چاہے، کوئی قدغن نہیں، عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، دھرنا پرامن ہو گا، دھرنے کی طوالت کا انحصار حکومتی رویہ پر ہے، عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو نہیں اٹھیں گے۔ انھوں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے دھرنا میں شرکت یقینی بنائیں۔

