English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بنگلادیش میں مظاہر ین کوگولی مارنیکا حکم،پاکستانی طلبہ محفوظ ہیں‘ دفتر خارجہ

القمر

ڈھاکا(مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلا دیش میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹا سسٹم کے خلاف احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے باعث کرفیو نافذ ہے، فوج کو امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دے دیا گیا۔خبر ایجنسی کے مطابق 5 روز میں پْرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 110 ہوگئی، مظاہرے روکنے کے لیے سڑکوں پر فوج کا گشت جاری ہے۔ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیکسٹ میسج سروسز جمعرات سے معطل ہیں، اوورسیز ٹیلی فون کال سروس بھی تعطل کا شکار ہے، بنگلا دیشی میڈیا کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ اپ ڈیٹ نہیں ہو رہے، کشیدہ صورتحال پر وزیراعظم حسینہ واجد نے بیرون ملک دورے منسوخ کر دیے۔ دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش میں پْرتشدد احتجاج کے بعدایکہزاربھارتی طلبہ وطن واپس آگئے۔خیال رہے کہ بنگلا دیش میں سرکاری ملازمتوں کا 56 فیصد کوٹے میں چلا جاتا ہے جس میں سے 30 فیصد سرکاری نوکریاں 1971 کی جنگ میں لڑنے والوں کے بچوں، 10 فیصد خواتین اور 10 فیصد مخصوص اضلاع کے رہائشیوں کے لیے مختص ہے۔علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ پاکستان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ ڈھاکا میں تمام پاکستانی طلبہ محفوظ ہیں اور انہیں محفوظ مقامات پر ٹھہرایا گیا ہے۔دفتر خارجہ کی ترجمان نے بنگلادیش کی صورت حال پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمارا مشن تمام پاکستان طلبہ سے رابطے میں ہے، ڈپٹی ہائی کمشنر نے چٹاگانگ کا دورہ کیا اور وہاں کے طلبہ سے بھی ملاقات کی۔دفتر خارجہ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ طلبہ کو ہائی کمیشن، سفیر کی رہائش گاہ اور کچھ دیگر محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے