English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پی ٹی آئی پر پابندی کا حکومتی اعلان بد ترین فسطائیت ہے

کراچی(رپورٹ: سید وزیر علی قادری) ملک میں حکومت کی ناکامی کے نمایاں اثرات نظر آنے کی ایک وجہ وفاقی وزیروں کے شوشے ہیں۔ قوم نام نہاد حکومت کے کارندوں کی کارستانیوں سے خوب اچھی طرح واقف ہوچکی ہے۔ فارم 45کو پس پشت ڈال کر فارم 47 کی بنیاد پر بننے والی حکومت کا یہ ہی حشر ہوا کرتا ہے۔ چند روز قبل حکومتی ایوانوں سے غیر ذمے دارانہ بیانات جاری ہوئے جس میں پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا عندیہ دیا گیا تھا۔ جس پر پوری قوم نے حیرت کا اظہار کیا اور سیاسی جماعتوں، دانشوروں اورملکی حالات کی نزاکت کو سمجھنے والے حلقوں نے اس عمل کو احمقانہ قرار دیا۔ اسی نقطے کو سامنے رکھتے ہوئے جسارت نے مقتدر شخصیات سے رابطہ کیا اور اس بابت سوال کیا کہ “کیا پی ٹی آئی پر پابندی کا حکومتی اعلان فسطائیت ہے؟” جسارت کے سوال کے جواب میں جن شخصیات نے اظہار خیا ل کیا ان میں جماعت اسلامی پاکستان کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ، ممبرصوبائی اسمبلی سندھ محمد فاروق، سابق صدر شعبہ عربی زبان و ادب جامعہ کراچی،پریذیڈنٹ صفہ انٹرنیشنل آکسفورڈ انگلینڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق منصوری، صدر این ایل ایف شمس الرحمن سواتی، پروفیسر منور قریشی ، قلمکار،نقاد، شاعر، صحافی محسن نقی ، معلمہ، قرآن وتفسیر و سماجی کارکن شگفتہ یوسف شامل ہیں۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا عندیہ آمرانہ، غیر جمہوری اور بچکانہ و مضحکہ خیز ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے پابندی لگانے کے لیے جو چارج شیٹ جاری کی ہے وہ تمام مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ فارم 47کی بنیاد پر قائم حکومت کمزور، نااہل اور ناکام ہے ۔ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے غیر جمہوری ، فسطائی طریقے اختیار کیے جارہے ہیں۔ سیاسی جمہوری پارلیمانی ماحول میں غیر آئینی اقدامات حکومتوں کو ہمیشہ مہنگے پڑتے ہیںَ۔ پی ٹی آئی پر پابندی عاید کرنا ملک میں عدم استحکام کی کیفیت کو ہر اعتبار سے مزید گمبھیر کرے گا۔ آزاد میڈیا، انتہائی بااختیار سوشل میڈیا کے دور میں فسطائی حربے رسوا ہی ہوںگے۔ سیاسی استحکام کے لیے سیاسی بحرانوں کا سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی محمد فاروق نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی قابل مذمت ہے، حکومت کے آمرانہ ہتھکنڈوں کا اظہار ہے۔ جمہوریت میں عوام کی آواز اہمیت رکھتی ہے، پابندیاں نہیں۔ پی ٹی آئی کو غیر قانونی قرار دینا اور اس کی قیادت پر آرٹیکل 6 لاگو کرنا غیر معقول ہے۔حکومت بوکھلاہٹ کاشکارہے، جو کام آمر کرتے تھے بدقسمتی سے وہ کام اب فارم 47 کی پیداوار حکومت کر رہی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق منصوری نے پی ٹی آئی پر پابندی کا شہباز شریف حکومت کا اعلان سراسر آمریت قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ملک میں جو ٹوٹا پھوٹا عدالتی نظام موجود ہے اس میں ایک مقدمہ میں بھی موجودہ حکومت اپنے الزامات کو ثابت نہیں کر سکی ہے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے انتہائی احمقانہ بات کہی ہے کہ پی ٹی آئی کو بیرونی ممالک کے یہودیوں اور عیسائیوں نے فنڈز دیے ہیں تو کیا کسی یہودی یا عیسائی کا پاکستان کی کسی سیاسی پارٹی کو فنڈ دینا یا لینا پاکستان کے قانون اور آئین کی رو سے جرم ہے؟ جن لوگوں میں اتنی عقل نہیں ہے انہیں پاکستان کا نائب وزیر اعظم کس بنیاد پر بنایا گیا ہے؟ دراصل ایسے وزیراعظم اور اس کے نائب وزیر اعظم پر پابندی لگائی جائے جن کے بیانات سے پاکستان کی عزت و وقار مجروح ہورہے ہیں۔شمس الرحمن سواتی نے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا کہ حکومت کا پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا اعلان کھلی فسطائیت ہے یہ حکومت جس کا اپنا وجود قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رکھتا وہ محض اس لیے ایک پارٹی پر پابندی لگانا چاہتی ہے کہ اس کی حکومت اس پارٹی کے چرائے ہوئے مینڈیٹ پر قائم ہے اور اب اس میں بری طرح پھنس چکی ہے اور یہ سب اپنی خفت مٹانے کے لیے کیا جارہا ہے۔پروفیسر منور قریشی نے اس اقدام کو صریحا غلط قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی پرپابندی نہیں لگانی چاہیے، اگر کوئی پریشانی ہے یا ملک کو کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اس کو دور کیا جائے۔ جہاںتک 9 مئی کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ پوری پوری ن لیگ کی ایک منصوبہ بندی تھی۔ جو کچھ ہوا اس کا مقصد ہی یہ تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگائی جائے یا پی ٹی آئی کو اس طرح دکھایا جائے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پی ٹی آئی کو قومی ادارے میں شامل کریں اور تسلیم کریں کہ وہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہے ۔ محسن نقی کا اس سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ صرف اپوزیشن اور عوام کی نبض چیک کرنے کے لیے کیا گیا تھا جو ناکام ہو گیا اور حکومت کو پسپا ہونا پڑا، پابندی کسی سیاسی پارٹی پر لگانا حماقت ہے صرف سیاست میں رہتے ہوئے ہی حل نکالا جاتا ہے مگر پے در پے جھوٹے سچے مقدمات نے سب کچھ برباد کر دیا ہے۔ شگفتہ یوسف کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بالکل فسطائیت اور آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے پاکستان کو آج تک اسی سوچ نے اوپر اٹھنے نہ دیا۔جب سے فوج نے اپنے دشمنوں کو فتح کرنے کے بجائے اپنی ہی قوم کو سیاسی مداخلت کے ذریعے فتح کرنے کی کوششیں کی ہیں۔پاکستان تنزلی کی طرف گیا ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ اس فیصلے میں صرف فوج اور ن لیگ ہی شامل ہے باقی تمام جماعتیں اسکے خلاف ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے