ویب ڈیسک—امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد مشی گن کے شہر گرینڈ رپیڈز میں پہلی الیکشن ریلی میں شرکت کی جس میں نائب صدارت کے ان کے نامزد ساتھی وینس بھی موجود تھے۔
انہوں نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف خدا کے فضل سے اس وقت آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔
اس خطاب کے دوران ٹرمپ کے اس کان پر جہاں گولی چھونے سے زخم آیا تھا، پٹی لگی ہوئی تھی، تاہم اب پٹی کی رنگت سفید سے جلد کے رنگ جیسی ہو گئی تھی۔
بٹلر میں ٹرمپ پر ہونے والے حملے میں ریلی میں موجود ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

مشی گن ان چند ریاستوں میں شامل ہے جنہیں سوئنگ اسٹیٹس کہا جاتا ہے۔
اس ریاست میں ووٹروں کا جھکاؤ کسی بھی امیدوار کی جانب جا سکتا ہے۔
سن 2016 کے انتخابات میں ٹرمپ نے اس ریاست میں 10 ہزار ووٹوں سے برتری حاصل کی تھی جب کہ 2020 میں بائیڈن نے ٹرمپ کی کامیابی کو پلٹتے ہوئے مشی گن کو ایک لاکھ 54 ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت لیا تھا۔
اپنے نائب صدر کے طور پر وینس کو اپنا انتخابی ساتھی نامزد کرنے کا ٹرمپ کا مقصد مشی گن، پنسلوینیا، وسکانسن اور اوہائیوجیسی ریاستوں میں ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا ہے جنہوں نے 2016 کے الیکشن میں ٹرمپ کی حیرت انگیز جیت میں مدد کی تھی۔
وینس نے نامزدگی قبول کرنے کی اپنی تقریر میں ان جگہوں کا بطور خاص ذکر کیا جہاں کی آبادیاں غریب ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ان محنت کش لوگوں کو نہیں بھولیں گے جن کی ملازمتیں آؤٹ سورس کر دی گئی ہیں اور جن کے بچوں کو جنگ میں جھونک دیا گیا ہے۔


گرینڈ ریپڈز میں ٹرمپ کے حامیوں کا ہجوم
شوٹنگ کے بعد ٹرمپ کی پہلی ریلی گرینڈ ریپڈز میں ہوئی جہاں ٹرمپ کی آمد سے قبل ہی ان کے حامی سڑکوں پر امڈ آئے۔
ہفتے کی دوپہر تک جلسہ گاہ کے داخلی دروازے پر تقریباً ایک میل لمبی قطار لگ گئی۔ جلسہ گاہ میں لگ بھگ 12 ہزار نشستوں کا انتظام تھا۔
ریلی کے موقع پر گرینڈ ریپڈز میں پولیس کی بھاری موجودگی بھی دیکھی گئی۔تقریباً ہر بلاک میں پولیس کے اہل کار تعینات تھے اور اس کے علاوہ پولیس اہل کار گھوڑوں اور سائیکلوں پر بھی گشت کرتے ہوئے نظر آئے۔
جلسہ گاہ میں جانے کے لیے لوگوں کو میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑا۔ جب کہ جلسہ گاہ کے اندر بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔


گرینڈ ٹرینڈز، دریائے گرینڈ کے کنارے تقریباً دو لاکھ آبادی کا شہر ہے جو اپنے باغات اور مجسموں کے پارک کی بنا پر شہرت رکھتا ہے۔
اس شہر میں بڑے پیمانے پر آفس فرنیچر تیار کرنے کے کارخانے موجود ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر یہ کہا کہ وہ صدر بننے کے بعد ملک سے غیر قانونی تارکین وطن کو بڑی تعداد میں نکال دیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے سیاسی دشمنوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔
(اس رپورٹ کے لیے تفصیلات ایسوسی ایٹڈ پریس سے لی گئیں ہیں)
