English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری میں 64 فلسطینی شہید،105 زخمی

القمر

غزہ،برسلز،صنعا(صباح نیوز)غزہ پر گزشتہ 24گھنٹے کے دوران ہونے والی اسرائیلی فوج کی بمباری میں کئی رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں جس کے ملبے تلے اب بھی درجنوں افراد دبے ہوئے ہیں۔فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اس دوران 64فلسطینی شہید اور 105زخمی ہوئے۔ شہدا اور زخمیوں میں زیادہ تر بچے، بوڑھے اور خواتین شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے متعدد علاقوں میں رہائشی علاقوں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ وحشیانہ بمباری میں تباہ ہونے والے عمارتوں کے ملبے سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔بمباری میں رہائشی عمارتوں کے تباہ ہو جانے پر مکینوں کی بڑی تعداد سڑک کنارے رات گزارنے پر مجبور ہیں جنھیں صبح ہونے کے بعد پناہ گزین کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا۔خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری اس وقت جب ایک روز قبل ہی عالمی عدالت انصاف نے اس کے جارحیت اور قبضے کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔غزہ پر7اکتوبر سے جاری اسرائیلی بمباری میں 39ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 90ہزار کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔ادھریورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے اقوام متحدہ کی عالمی عدالت انصاف کے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ بلاک نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور عدالت کی رائے کے لیے مزید حمایت پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی مسلسل اور بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے پیش نظر یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم آئی سی جے کے تمام فیصلوں کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کی تصدیق کریں چاہے یہ فیصلہ کسی بھی موضوع پر ہو۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا مزید گہرائی سے تجزیہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔آئی سی جے کا فیصلہ کسی کو پابند نہیں کرتا کہ اس پر عمل کیا جائے تاہم یہ ایسے وقت پر آیا ہے جب غزہ میں تباہی اور اموات کی تعداد میں مسلسل اضافے پر تشویش بڑھ رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی خطے میں بھی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔عالمی عدالت کے فیصلے اور یورپی یونین کی حمایت کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سے اسرائیل پر سفارتی دبا بڑھ سکتا ہے۔یاد رہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے)کی طرف سے جمعے کو آنے والے فیصلے میں قبضے کو جلد از جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل کی طرف سے اسے جھوٹ بر مبنی فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت (حماس ) نے حکومت پاکستان کی جانب سے نام نہاد قابض اسرائیلی ریاست کو جنگی مجرم اور صیہونی فاشسٹ مجرم اوروزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کو دہشت گرد شخص قرار دینے کا خیرمقدم کیا ہے ۔ایک بیان میں حماس نے کہا کہ اسلامی تحریک مزاحمت حکومت پاکستان کے اس اعلان کو دہشت گرد صہیونیوں کے ہاتھوں نہتے فلسطینی عوام کی نسل کشی اور نسلی تطہیر کی جنگ کا نشانہ بننے والوں کی حمایت کی طرف اہم قدم تصور کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔بیان کے مطابق پاکستان کا یہ اعلان حکومت پاکستان، پاکستانی جماعتوں اور عوام کی طرف سے فلسطینیوں کے نصب العین اور عالم اسلام کے اولین حل طلب مسئلے کی حمایت پرمبنی اصولی، تاریخی اور دیرینہ موقف کی عکاسی کرتا ہے۔حماس نے عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ فاشسٹ قابض ریاست کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے اس کا ہر سطح پر بائیکاٹ کریں۔ بیان میں مسلمان ممالک کی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ صہیونی وحشت اور نسل کشی کا شکار فلسطینی عوام کی حمایت اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کریں۔ ، بیان کے مطابق، غزہ میں جاری اسرائیلی جنگی جرائم اور نسل کشی کی جنگ کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے اور جنگ بندی کی حالیہ قرارداد پرعمل درآمد کرانے کے لیے اسرائیل پر دبائو ڈالیں۔حماس نے بیان میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ عالم اسلام کو چاہیے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کی نصرت میں موثر اقدامات کرے، مسجد اقصیٰ اور فلسطین بھر میں موجود تمام مسیحی اور مسلم مقدسات کی حفاظت کے لئے موثر کردار ادا کرے۔علاوہ ازیںیمن میں سپریم پولیٹیکل کونسل نے الحدیدہ گورنری میں شہری تنصیبات ، بجلی گھروں اور تیل کی تنصیبات کے خلاف وحشیانہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے دشمن کو اس جارحیت کی قیمت چکانا ہوگی۔کونسل نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے ملک کے خلاف صہیونی جارحیت کا بنیادی مقصد یمنی عوام کے مصائب میں اضافہ کرنا اور جمہوریہ یمن کو فلسطینی عوام اور انصاف پسندوں کی حمایت کے موقف سے باز رکھنا ہے۔ مگر دشمن کو اپنے اس گھمنڈ میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دشمن کی جارحیت یمنی قوم کو فلسطینی قوم کے نصب العین کی حمایت سے باز نہیں رکھ سکے گی۔سپریم پولیٹیکل کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت اور مدد میں ہمارا موقف اصولی، عقیدے پر مبنی اور مذہبی ہے۔ اسرائیلی دشمن کی ننگی جارحیت کی وجہ سے ہم اپنا موقف نہیں بدلیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت یمنی عوام کے اپنے دفاع میں فلسطینی عوام کی حمایت اور مدد جاری رکھنے اور اس سلسلے میں مزید کوششیں کرنے کے عزم میں اضافہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیلی جارحیت ہماری مسلح افواج کے لئے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے