اسلام آباد: ایم کیوایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ 17 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے اور لوڈ شیڈنگ کی باوجود بجلی کے بھاری بل آتے ہیں۔
نجی ٹٰی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عوام تنگ آچکے ہیں، بجلی بلوں کے معاملے پر چیئرمین نیپرا سے ملاقات کی ہے، 40 ایسی کمپنیاں ہین جن سے یہ سارا نظام چل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کو بجلی نہ بنانے کے پیسے دیے جارہے ہیں، مقامی 70 فیصد آئی پیز سے ہاتھ جوڑ کر کہیں غلطی ہوگئی معاہدے ختم کیے جائیں۔ پاکستان میں ضرورت سے زیادہ بجلی موجود ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہماری انڈسٹری بند ہو رہی ہے، ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں، صنعت کار اپنی فیکٹری بند کر دے گا تو ملک کی معیشت کیسے بہتر ہوگی، تمام ادارے بجلی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ایک ہو جائیں۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ہ 30 ہزار میگاواٹ بجلی کی ڈیمانڈ ہے اور ہمارے پاس 43 ہزارمیگاواٹ بجلی بنانےکی صلاحیت ہے مگر اس کے باوجود 17 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے اور لوڈ شیڈنگ کی باوجود بجلی کے بھاری بل آتے ہیں۔

