
اسلام آباد: راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے جماعتِ اسلامی پاکستان کا مہنگی بجلی اور مہنگائی کے خلاف پُرامن دھرنا جاری ہے۔ اس دھرنے کے شرکا کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دھرنے کے شرکا نے لیاقت باغ کے سامنے پڑاؤ ڈالنے سے قبل رات مری روڈ پر بسر کی۔
ہفتے کی صبح دھرنے کے شرکا کو ناشتے میں حلوہ اور نان چھولے دیے گئے۔ صورتِ حال پُرامن ہے۔ کوئی ناخوش گوار واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔ دھرنے کے شرکا پُرامن احتجاج کر رہے ہیں اور انتظامیہ سے بھی معاملات درست ہیں۔
دھرنے کا دوسرا دن ہے اور شرکا میں غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت عوام کو مہنگائی اور مہنگی بجلی سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ملک بھر میں عوام غیر معمولی اور روز بروز بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں۔
دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنا حکومت کا کام ہے کیونکہ اُس کے پاس ہی اس کا طریقہ ہوتا ہے۔ اگر حکومت اپنے طریقے کو بروئے کار لانے سے گریز کر رہی ہے تو عوام کا فرض ہے کہ اُسے اسکا کام یاد دلائیں اور ہم یہی کر رہے ہں۔
ہفتے کو نمازِ فجر کے بعد دھرنے میں لگایا جانے والا ساؤنڈ سسٹم آن ہوا اور دھرنے کے شرکا کو ثابت قدم رکھنے کے لیے خطاب شروع کیا گیا۔ دھرنے کے قائدین کا کہنا ہے کہ ہم حکومت کو اُس کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ عوام کے لیے ریلیف کا اہتمام کرنے کی غرض سے خاطر خواہ اقدامات کرے گا۔
یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ جماعتِ اسلامی کے دھرنے کے شرکا نے لیاقت باغ میں صفائی کا خاص خیال رکھا ہے۔ وہاں سے سارا کچرا دھرنے کے شرکا نے اٹھاکر ایک طرف کردیا ہے ۔
سکیورٹی کے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دھرنے کی انتظامیہ نے سکیورٹی کے پہلو کو ذہن نشین رکھتے ہوئے پانچ فٹ اونچا اور 20 فٹ چوڑا اسٹیج بنایا ہے۔ منی ٹرک پر ساؤنڈ نصب ہے۔
غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ، مہنگی بجلی اور مجموعی مہنگائی کے خلاف جماعتِ اسلامی پاکستان کے دھرنے کو عالمی میڈیا آؤٹ لیٹ بھی کور کر رہے ہیں۔
