امریکا میں قانونی تارکینِ وطن کے ڈھائی لاکھ سے زائد بچوں کو ملک بدری کے خطرے کا سامنا ہے۔ ان میں ایک بڑی تعداد بھارتی نژاد باشندوں کے بچوں کی بھی ہے۔ جب یہ بچے 21 سال کے ہوں گے تب اِن کا زیرِکفالت ہونے کا اسٹیٹس ختم ہوجائے گا۔
امریکی ایوانِ صدر نے اس حوالے سے قوانین میں تعطل پر ری پبلکنز کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے جبکہ بہت سے قانون ساز اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں کا کہنا ہے کہ قانونی تارکینِ وطن کے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور وہ بھی فوری طور پر۔
امریکی میڈیا میں اِن بچوں کو ایسے خواب دیکھنے والے کہا جاتا ہے جن کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ یہ بچے اپنے والدین کے ساتھ اُن کے آبائی وطن سے عارضی ورک ویزا پر آئے تھے اور امریکا ہی میں پلے بڑھے ہیں۔
دی نیشنل فاؤنڈیشن فار امریکن پالیسی نے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر بتایا ہے کہ 2 نومبر 2023 تک زیرِکفالت افراد سمیت کم و بیش 12 لاکھ بھارتی باشندے امریکی گرین کارڈ پانے کی ویٹنگ لِسٹ میں ہیں۔ یہ بات معروف جریدے فوربس کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
امریکا کے دی امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کے تحت ہر وہ فرد بچہ اور زیرِکفالت ہے جو 21 سال سے کم عمر کا ہو اور غیر شادی شدہ ہو۔ اگر کوئی شخص قانونی مستقل رہائشی (ایل پی آر) کے درجے کے لیے درخواست دے مگر گرین کارڈ ملنے سے قبل ہی 21 سال کا ہو جائے تو وہ امیگریشن کے لیے بچے کے درجے سے محروم ہو جاتا ہے۔ اِس کیفیت کو aging out کہا جاتا ہے۔ ایسے میں متعلقہ فرد کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی، گرین کارڈ کے لیے طویل انتظار کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔
امریکی ایوانِ صدر کی پریس سیکریٹری کیرن ژاں پیئرے کا کہنا ہے کہ قانون کے اعتبار سے اس معاملے میں تعطل ری پبلکنز کا پیدا کردہ ہے کیونکہ اُنہوں نے متعلقہ قوانین کی منظوری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ اس کے نتیجے میں “ڈاکمیومینٹیڈ ڈریمرز” کا مستبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
13 جون کو امیگریشن، سٹیزن شپ اور بارڈر سیکیورٹی سے متعلق سینیٹ کی جیوڈیشری سب کمیٹی کی کے سربراہ الیکس پیڈیلا اور ایوانِ نمائندگان کی رکن ڈیبورا روس کی قیادت میں 43 امریکی قانون سازوں نے بائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ اس معاملے میں فیصلہ کن نوعیت کے اقدامات کرے تاکہ بے یقینی کی فضا ختم ہو۔

