English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جماعت اسلامی کی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مظاہرین پرفائرنگ ‘تشدداور گرفتاریوں کی مذمت

القمر

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری کاشف سعید شیخ نے بلوچستان میں بلوچس یکجہتی کمیٹی کی جانب سے گوادر میں جلسہ عام منعقدہ کرنے کیخلاف ریاستی اداروں، بلوچستان پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے نہتے مظاہرین پر مستونگ میں فائرنگ کے نتیجے میں 14 افراد کے زخمی،گرفتاریوں اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے عمل کو بگٹی حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار اور سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کوروکنے،سڑکوں پر خندقیں کھودنے،لوگوں کو گرفتار،خواتین پر لاٹھی چارج کہاں کی جمہوریت اور کونسا قانون ہے، پاکستان کے آئین میں اظہار کی آزادی سمیت پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن شہباز حکومت نے ملک بھر میں اپنے حقوق کیلیے احتجاج کرنا جرم بنادیا ہے ،نام نہاد جعلی حکمرانوں نے اپنے طرز عمل سے آمریت کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔کوئٹہ سے گوادر جانے والے راستوں کی بندش،قلات، مستونگ، خضدار،آواران، لسبیلہ اور حب سمیت مختلف علاقوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے لوگوں کو گرفتار کرنا انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے گوادر میں جلسہ عام کے اعلان کے بعد پورے بلوچستان میں خواتین، بچوں اور نوجوانوں کی گرفتاریوں،خواتین کو ہراساں کرنے کا عمل قابل نفرت ہے،بلوچ لاپتا نوجوانوں کا مسئلہ حقیت ہے، اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس کو عدالتوں میں پیش کیا جائے لیکن لوگوں کو گھروں سے اٹھاکر لاپتا اور لواحقین کو لاشوں کے تحفے دینے کا سلسلہ بلوچ قوم کی نفرت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے،لوگوں کے ساتھ زیادتیوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے زور زبردستی کی وجہ سے آج بلوچستان آتش فشاں بن چکا،مزید گرفتاریوں، خواتین پر تشدد جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ مستونگ واقعے کی شفاف انکوائری کرکے ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی اور زخمیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کیا جائے، کسی بھی جگہ پر پْرامن احتجاج کرنے کے حق سے روکنے کا صوبائی اور وفاقی حکومت کو کوئی حق نہیں پہنچتا،طاقت کے استعمال کی بجائے سنجیدگی کا مظاہرہ اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جائے،ہر مسئلے پر ریاستی طاقت استعمال کرنے کی سوچ تمام مسائل کی جڑ ہے، حکمران اور عسکری ادارے آخرلوگوں کے پرامن احتجاج سے کیوں خوفزدہ ہیں،بلوچ مائوں بہنوں پر فورسز کے تشدد،گرفتاریوں ،گوادر جلسہ عام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ عوام کو جلسہ جلوس کرنے کے آئینی اور قانونی حق سے روکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے