لاہور (نمائندہ جسارت) پولیس نے جماعت اسلامی کی خواتین کو راولپنڈی جانے سے روک دیا۔ پولیس نے بسیں قبضہ میں لے کر خواتین کو اتار دیا جس پر جماعت اسلامی خواتین ونگ نے منصورہ ملتان روڈ پر دھرنا دے دیا‘ دھرنے کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوااور دور دور تک لمبی لائنیں لگ گئیں۔باز خواتین نے کمسن بچوں کو بھی اٹھایا ہوا تھا۔ خواتین نے جماعت اسلامی کے جھنڈے اور پلے کارڈ و بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر مہنگی بجلی کے خلاف نعرے درج تھے۔اس موقع پر خواتین نے لڑنا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا سمیت زبردست نعرہ بازی کی اور مطالبہ کیا کہ بجلی سستی کی جائے ۔خواتین کا کہنا تھا کہ بلوں کی وجہ سے ہر کوئی بہت پریشان ہے۔ روٹی پوری کریں بل یا بچوں کی فیسیں زندگی تماشا بن گئی ہے۔تاہم بعد ازاں خواتین کا دھرنا ختم اور ٹریفک بحال کر دی گئی۔جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے خواتین کارکنان سے بدسلوکی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس ریاست بن چکی ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے، احتجاج ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے، پولیس ہماری بسیں واپس کرے، حکومت پنجاب خواتین کے لئے راولپنڈی دھرنے میں شرکت کے لئے رکاوٹیں کھڑی نہ کرے۔ دریں اثنا ترجمان جماعت اسلامی قیصرشریف نے بتایا کہ خواتین راولپنڈی دھرنے میں شرکت کے لیے روانہ ہوئیں پولیس نے خواتین کوزبردستی اتارکر8 بسیں تھانہ چوہنگ میں بند کر دیں۔ حکومت غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے، مذاکرات، گرفتاریاں اور رکاوٹیں ایک ساتھ نہیں چل سکتے، جہاں قافلوں کو روکا جائے گا، وہیں دھرنا ہوگا، پنجاب حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے،غیر جمہوری رویے کی مذمت کرتے ہیں، راولپنڈی کا دھرنا 10 مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گا ۔امیر جماعت اسلامی حلقہ غربی لاہور عبد العزیز عابد نے کہاکہ حکومت پنجاب نے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی ، پنجاب پولیس سٹیٹ بن چکی ہے۔
