راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہدھرنے سے 25 کروڑ عوام میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔
راولپنڈی میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ آئی پی پی کے معاہدے پی پی پی کے دور میں شروع ہوئے ، پی ٹی آئی حکومت میں 35 کمپنیوں سے بات چیت کی گئی، مشرف،پی پی پی،ن لیگ،پی ٹی آئی سب نے آئی پی پیز سے معاہدے کیے۔ دھرنے سے 25 کروڑ عوام میں امید کی کرن پیدا ہوئی ہے، حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ایف بی آر کے 22 ہزار ملازمین ہیں، ایف بی آر کرپشن کا دھندہ کرتا ہے، ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن ایف بی آر کے ذریعے ہوتی ہے۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ہمارے دھرنے کی تعریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، وہ یہاں تشریف لائیں ان کو ویلکم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بربادی میں سب سے زیادہ فائدہ بینکوں کو ہوتا ہے، سود تو حرام ہے سود تو ہونا ہی نہیں چاہیے، سود کی شرح بڑھنے سے قرض نہیں سود ادا ہوتا ہے۔پاکستان کا اندرونی و بیرونی 65 ٹریلین قرضہ بنتا ہے، یہ قرضہ بینک سے لیا جارہا ہے جس کا فائدہ بینک کو ملتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اعلان کریں وزیر اور سرکاری آفیسر 1300 سی سی سے زائد گاڑی استعمال نہیں کریں گے، اس معاہدے پر وزیرِ اعظم کام کیوں نہیں کر سکتے، وزیرِ اعظم 1300 سی گاڑی میں اپنی سیٹ ایڈجسٹ کرالیں، 350 ارب کا قوم کو فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پہلے مرحلے پر کراچی میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا ہونے جا رہا ہے پھر لاہور اور ملتان میں دھرنا دیں گے، ہمارا دھرنا ملک بھر میں پھیلایا جائے گا۔

