English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سائبر کرمنلز نے پیرس اولمپکس کو نشانے پر لے لیا

دنیا بھر کے سائبر کرمنلز اور ہیکرز نے پیرس اولمپکس کو نشانے پر لے لیا ہے۔ مقابلوں کے جعلی ٹکٹ فروخت کرنے والی 338 ویب سائٹ کا پتا چلا ہے جن میں سے 51 کو بند بھی کیا جاچکا ہے۔ 140 ویب سائٹس کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔ یہ ویب سائٹس جعلی ٹکٹوں کے علاوہ لاٹری کے ٹکٹ بی فروخت کر رہی ہیں۔

ہیکرز، اسکیمرز اور دیگر سائبر کرمنلز نے پیرس اولمپکس کے منتظمین کو بھی نشانے پر لے رکھا ہے اور ساتھ ساتھ ڈیٹا بھی چُرارہے ہیں۔ سائبر کرمنلز پیرس اولمپکس سے متعلق جعلی لاٹریز بھی انٹرنیٹ پر پیش کرکے لوگوں سے رقوم بٹور رہے ہیں۔ بہت سے ہیکرز انعامی اسکیموں کا جھانسا دے کر یوزرز سے اہم معلومات اُگلوارہے ہیں۔ یاد رہے کہ پیرس اولمپکس کے مقابلوں کے ٹکٹ خریدنے کی آفیشل ویب سائٹ tickets.paris2024. org ہے۔

بہت سے سائبر کرمنلز اور ہیکرز اولمپکس کے ٹکٹ فروخت کرنے کا جھانسا دے کر لوگوں سے معلومات طلب کرتے ہیں اور پھر اُن کے سسٹم میں وائرس داخل کرکے پورا ڈیٹا چرالیتے ہیں۔

بہت سے اسکیمرز نے بلیک ٹکٹنگ بھی شروع کردی ہے۔ وہ آفیشل ویب سائٹ سے خریدے ہوئے ٹکٹ خرید کر زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔ پیرس اولمپکس کے منتظمین اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔

یوکرین پر جنگ مسلط کرنے کے الزام کے تحت روس کو پیرس اولمپکس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔ اس پر روسی حکومت ہی نہیں، ہیکرز بھی مشتعل ہیں۔ انہوں نے پیرس اولمپکس کے سسٹمز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرلی ہے اور حملے شروع بھی کردیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ منتظمین کا ناک میں دم کردیں گے۔ پیرس اولمپکس کے منتظمین کی پرسنل سوشل میڈیا آکاؤنٹس اور کونٹیکٹ نمبرز کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

گوگل نے تسلیم کیا ہے کہ روسی ہیکرز گروپ پیرس اولمپکس کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ سسٹم پر اُن کے حملے بڑھ رہے ہیں اور منتظمین کو سسٹم سیکیورٹی پر غیر معمولی توجہ دینا پڑ رہی ہے۔

مائیکروسوفٹ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسٹارم 1679 اور اسٹارم 1099 نامی روسی ہیکر گروپس نے ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دوران فرانسیسی حکومت اور پیرس اولمپکس کو نمایان طور پر نشانہ بنایا ہے۔ اُنہوں نے یہ تاثر پیدا کرنے اور پروان چڑھانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ اولمپکس کے لیے پیرس کوئی معیاری اور محفوظ مقام نہیں اور یہ کہ کسی بھی وقت یہاں دہشت گردی ہوسکتی ہے۔

یاد رہے کہ 2020 کے ٹوکیو اولمپکس کے دوران 45 کروڑ سائبر حملے کیے گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے