دنیا بھر میں آن لائن گیمنگ کے ہاتھوں نوجوانوں کی ہلاکت کا معاملہ خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے۔ بہت سے آن لائن گیمز اپنے یوزرز کے ذہن کو جکڑ لیتے ہیں اور پھر وہ انتہائی جذباتی ہوکر کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھتے ہیں۔
مغربی بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں بھی ایسا ہی ہوا۔ آن لائن گیم کے شوقین ایک 16 سالہ لڑکے نے کسی آن لائن گیم کے دوران انتہائی جذباتی ہوکر 14 ویں منزل پر واقع اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے چھلانگ لگادی اور ہلاک ہوگیا۔ والدین کو اندازہ نہیں کہ لڑکا کون سا کھیل کھیلا کرتا تھا اور اُس کی دوستی کن لوگوں سے تھی۔ اُس کے لیپ ٹاپ کمپیوٹر کو آن کرنا بھی اُن کے لیے ممکن نہیں ہوسکا کیونکہ اُس میں لاک لگا ہوا تھا اور پاس ورڈ وہ جانتے نہیں۔
لیپ ٹاپ کمپیوٹر کو کھولنے یعنی آپریٹ کرنے کے لیے سائبر ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ پمپری چھنچھواڑ نامی علاقے سے تعلق رکھنے والے لڑکے کے والد نے بتایا کہ وہ اپنی آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں کسی کو نہیں بتاتا تھا، سسٹم سے اپنی ہسٹری کو ڈیلیٹ کردیا کرتا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے کئی ای میل اکاؤنٹ استعمال کرتا تھا۔
پولیس کو لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے پاس ایک اسکیچ بک بھی ملی جس میں متعدد اسکیچ بنے ہوئے تھے۔ لڑکے نے کھڑکی سے کودنے قبل ایک لاگ آؤٹ نوٹ بھی چھوڑا۔
اسکیچز سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کسی ملٹی پلیئر یا ٹیم گیم میں شریک تھا۔ یہ بلیو وھیلز سے ملتا جلتا کھیل تھا۔
لڑکے کی ماں نے بتایا کہ کم و بیش 6 ماہ سے اُس کی طرزِ فکر و عمل میں غیر معمولی تبدیلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ جارحانہ مزاج کا حامل ہوگیا تھا اور اُس میں بے باکی بھی بہت آگئی تھی۔ کبھی وہ چاقو مانگتا تھا اور کبھی آگ میں ہاتھ ڈالنے کی ضد کرتا تھا۔
خود کشی کرنے والے لڑکے کی ماں نے کہا ہے کہ بہت سے لڑکے اور لڑکیاں اس لیے بگڑ رہے ہیں کہ خطرناک سمجھی جانے والی ویب سائٹس تک رسائی بہت آسان ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خطرناک قرار دیے جانے والے تمام آن لائن گیمز تک رسائی روکی جائے۔

