اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی عدالت نے ریاست مخالف پروپیگنڈا کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن کی ضمانت منظور کرلی تاہم انہیں رہا نہیں کیا جائے گا۔
الیکٹرانک جرائم کی روک تھام (PECA) ایکٹ 2016 کے تحت دائر مقدمات کی سماعت کے لیے حال ہی میں تشکیل دی گئی خصوصی عدالت کے جج ڈیوٹی مجسٹریٹ عباس شاہ نے جمعرات کو یہ فیصلہ جاری کیا۔
پی ٹی آئی رہنما کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایک مقدمے میں دو دن کے لیے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا تھا.
رؤف حسن سمیت 9 دیگر ملزمان کو 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے انفارمیشن سیکرٹری اور دیگر کو 22 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور بعد ازاں انہیں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران وکیل دفاع نے کہا کہ ملزمان کے خلاف ایجنسی کا کیس صرف ایک شخص پر مبنی ہے ۔
انہوں نے عدالت کو بتایا، “تین خواتین پہلے ہی ضمانت حاصل کر چکی ہیں، نو دیگر حکم کے منتظر ہیں۔ ملزمان تنخواہ دار ملازم ہیں جن کا رؤف حسن سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
وہ پی ٹی آئی سیکرٹریٹ میں چوکیدار، گارڈنر، میسنجر کے طور پر کام کرتے ہیں لیکن وہ اتنے دنوں سے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔رؤف حسن کے معاملے کو چھوڑتے ہیں، لیکن ان تنخواہ دار لوگوں نے کیا کیا؟۔
“ریاست کیا ہے؟ قانون اور آئین کے مطابق عوام ہی ریاست ہیں،” انہوں نے اپنے دلائل کا اختتام کرتے ہوئے کہا، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا اور جلد ہی سنایا گیا۔

