
لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ کے علاقے ساؤتھ پورٹ میں چاقو زنی سے بچوں کی موت کے بعد دائیں بازو کے شرپسندوں نے اشتعال انگیزی کی انتہا کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق برطانیہ بھر کے قصبوں اور شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ بدامنی کے تازہ واقعے میں مشتعل افراد نے پولیس اسٹیشن کو جلا دیا، جس میں 3اہلکار زخمی ہوئے۔ سندر لینڈ میں پولیس سے جھڑپوں کے بعد مشتعل ہجوم نے پولیس اسٹیشن کو جلا ڈالا،آگ نے ملحقہ عمارت کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور آگ بجھانے والے آلات سے بھی حملے کیے۔ اس دوران پولیس اسٹیشن کے قریب کھڑی ایک کار بھی شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔ دوسری جانب لیورپول میں مسجد کے باہر جھڑپوں کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ۔ انتہاپسند مظاہرین نے مہاجرین کے خلاف نعرے بازی اور مسجد کے باہر کھڑے افراد پر حملہ کردیا۔ مظاہرین نے پولیس پر اینٹیں پھینکیں اور کار کو آگ لگادی۔نارتھمبریا پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس کے احاطے میں توڑ پھوڑ اور ملحقہ عمارت کو آگ لگانے کے بعد 8 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔مظاہروں میں پولیس پر جو حملے ہوئے ہیں اور جو دیگر نقصان ہوا ہے اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ادھر ساؤتھ پورٹ میں ایک پاکستانی کو چاقو مار کر زخمی کردیا گیا۔ عینی شاہد خاتون کا کہنا ہے کہ چاقو مارنے کی واردات کراسبی ٹرین اسٹیشن کے قریب پیش آئی۔ حملہ آورسفید فام تھا۔ پولیس اور ایمبولینس 25 منٹ بعد مدد کو پہنچے۔برطانوی وزیرداخلہ نے خبردار کیا ہے کہ فسادیوں کو اپنے جرائم کا حساب دینا پڑے گا۔
