English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاک فوج کے افسران ملک کی اشرافیہ نہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہا کہ پاک فوج کے افسران و جوان ملک کے متوسط طبقے اور غریب خاندانوں سے آتے ہیں یہ اشرافیہ میں سے نہیں ہیں۔ 

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے یوم استحصال کے موقع پر پیغام دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات، آبادیاتی تبدیلی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2024 کے پہلے سات ماہ میں کاؤنٹر ٹیرارزم آپریشنز کے دوران 139 بہادر افسران اور جوانوں نے جان کی قربانی دی، جس پر پوری قوم انہیں اور ان کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں ملک کی داخلی اور سرحدی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیاب جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ کاؤنٹر ٹیرارزم اور فوجی آپریشنز کے علاوہ، افواج پاکستان بالخصوص پاک فوج سماجی و اقتصادی منصوبوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے، جن میں تعلیم، صحت، فلاح و بہبود، معاشی خود انحصاری اور دیگر شعبوں کے پروجیکٹس شامل ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ افواج پاکستان کی خصوصی توجہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اور بلوچستان کے متاثرہ علاقوں پر ہے، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں بھی فلاحی منصوبے جاری ہیں یا پایہ تکمیل تک پہنچ چکے ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں افواج پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی وسائل کی فراہمی کے لیے جامع اقدامات کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور نئے ضم شدہ اضلاع میں 94 اسکول، 12 کیڈٹ کالجز، 10 ٹیکنیکل اور ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں سے تقریباً 80 ہزار بچے مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی یوتھ ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت 1500 مقامی بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ “تعلیم سب کے لیے” منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا سے 7 لاکھ 46 ہزار 768 طلباء کو انرول کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت طلباء کو ڈیجیٹل اور ٹیکنیکل اسکلز بھی سکھائی جا رہی ہیں۔

بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ 60 ہزار طالب علموں کو 160 اسکولز، 12 کیڈٹ کالجز، یونیورسٹیز اور 3 ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس میں تعلیم دی جا رہی ہے۔ بلوچستان کے طلباء کے لیے ایک جامع اسکالرشپ پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس میں تعلیم کے ساتھ تمام سہولیات اور اخراجات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اب تک اس پروگرام کے تحت 8 ہزار سے زائد طلباء مستفید ہو چکے ہیں۔

لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 92 اسکولز چلا رہی ہے، جن میں 19 ہزار طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ، 253 بلوچ طلباء کو متحدہ عرب امارات کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے