حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد عقیل احمد خان نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام بدمعاشی اور غنڈہ گردی کرنے والے وڈیروں کے رحم وکرم پر ہیں، طاقت کے نشے میں مست وڈیرے کی فرعونیت کا شکار ہونے والے معصوم بچے کے لواحقین کو انصاف دلانے کے لیے جماعت اسلامی ہر فورم آواز اُٹھائے گی، سیری تھانے کی حد میں بکریاں کھیت میں جانے کی وجہ سے زمیندار آغازبیر درانی نے غریب مزدور ہاری کے 9سالہ بچے طاہر ملاح کو گولیاں مارکر قتل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ بے گناہ معصوم بچے کے قاتل کو فوری طور پر گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دے کر عبرت کا نشان بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفد کے ہمراہ سیری میں مقتول بچے کے والد مٹھل ملاح اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں نائب امیر عبدالقیوم شیخ،پبلک ایڈ کمیٹی حیدرآباد کے صدر عبدالباسط خان،جنرل سیکرٹری اسلامک لائرز مومنٹ ایڈووکیٹ عبدالقیوم خان، ایڈووکیٹ سید جمیل الرحمن، جماعت اسلامی سیری کے رہنما فتح محمد شورو اور مرکزی میڈیا کوآرڈینیٹر جماعت اسلامی پاکستان نعیم مغل، باقر نظامانی بھی موجود تھے۔ عقیل احمد خا ن نے کہا کہ پاکستان جنگل نہیں کہ جہاں طاقتور کمزور اور بے بس مظلوم لوگوں کو سرعام قتل کرے اور اس کے خلاف فوری کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے، پولیس اور انتظامیہ گونگی بہری بن کر یہ بھیانک ڈراما دیکھتی ہے، سندھ کے عوام بدمعاشی اور غنڈہ گردی کرنے والے وڈیروں کے رحم وکرم پر ہیں،طاقت کے نشے میں مست وڈیرے کی فرعونیت کا شکار ہونے والے معصوم بچے کے لواحقین کو انصاف دلانے کے لیے جماعت اسلامی ہر فورم آواز اُٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں خصوصاً اندرون سندھ وڈیروں، امیروں نے اپنی ریاستیں قائم کی ہوئی ہیں اور حکومت ان کے خلاف سیاسی مصلحتوں کی بنا پر کسی قسم کی کوئی کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے جو ملک کے آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جو کہ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی، اس سے پہلے بھی اندرون سندھ وڈیرہ شاہی نے کبھی بے زبان جانور کی ٹانگ کاٹ دی، یہ لاقانونیت سندھ حکومت کا گزشتہ 15سال سے طرہ امتیاز ہے اور قانون آئین اور ضابطے کے نفاذ میں قطعی طور پر ناکام ہو چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ سندھ میں آئے دن اس قسم کے ہولناک اور انسانیت سوز واقعات جنم لیتے رہتے ہیں۔ دفد نے مقتول بچے کے والدین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کو ہر حال میں انصاف دلایا جائے گا اور اس کے حصول کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کر کے قاتل کو تختہ دار پر پہنچایا جائے گا۔ آخر میں انہوں نے اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر متاثرین کو انصاف فراہم کرے۔
