اسلام آباد(آن لائن) وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ ایک آئی پی پی کا 2016ء میں 3 روپے والا یونٹ آج 285 روپے کا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین محسن عزیز کی صدارت میں ہوا، جس میں وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ ایک آئی پی پی کا 2016ء میں 3 روپے والا یونٹ آج 285 روپے کا ہے‘ آئندہ بجلی حکومت نہیں خریدے گی، صارفین براہ راست خریدیں گے۔ وزیر توانائی نے بتایا کہ کے ای کی بجلی مہنگی پیدا ہوتی ہے، اس کے ٹیرف کو یکساں کرنے کے لیے حکومت 170ارب کی سبسڈی دیتی ہے‘ 2025ء سے 2027ء تک بجلی کی قیمت بڑھ جائے گی‘ آئندہ 10 سال سسٹم میں آنے والی بجلی کے منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نندی پور اور گڈو پاور کو فروخت کر رہے ہیں‘ ہمارے پاس مکمل ڈیٹا ہی نہیں ہے‘ آئندہ بجلی حکومت نہیں خریدے گی‘ صارفین براہ راست بجلی خرید سکیں گے۔
ساہیوال پاور پلانٹ کا 2016ء میں 3 روپے یونٹ تھا آج 285 روپے فی یونٹ ہے‘ پلانٹ کو 24 گھنٹے آن رکھنے کی قیمت کپیسٹی چارجز ہیں۔اویس لغاری نے بتایا کہ بجلی کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ متبادل پر جا رہے ہیں، اس سال 6 ہزار میگاواٹ کے سولر پینل اس سال امپورٹ کیے گئے ہیں، یہ سب لو گ آف گرڈ ہو گئے ہیں۔وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کے ملازمین کو دیے جانے والے مفت یونٹس کو ختم کرکے اس کی جگہ رقم دینے کی منظوری دی تھی لیکن عدالت نے اس معاملے پر حکم امتناع دے رکھا ہے۔
