English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عدالت عظمیٰ :قتل کے مقدمے کا 27 برس بعد فیصلہ ، انصاف میں تاخیر پر چیف جسٹس کی معذرت

القمر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت عظمیٰ کے شریعت اپیلٹ بینچ نے 27 سال پرانے قتل کے مقدمے کا فیصلہ جاری کردیا اور فریقین کے راضی نامے کی بنیاد پر مجرم کو رہا کرنے کا حکم دیا اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انصاف میں تاخیر پر فریقین سے معذرت بھی کی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی شریعت اپیلٹ بینچ نے ملزم محمد اکرم کی اپیل پر 27 سال قبل دائر ہونے والے قتل کے مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا اور قتل کے مجرم کو راضی نامے کی بنیاد پر رہا کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر معذرت بھی کی تاہم عدالت کو درخواست گزار کے وکیل نے آگاہ کیا کہ ملزم اور مقتول کے ورثا کے درمیان راضی نامہ ہو چکا ہے اور ملزم دیگر سزائیں کاٹ چکا ہے۔ حکم نامے میں کہا کہ ضلع خانیوال کے شہری ملزم محمد اکرم کو قتل کیس میں 13 اپریل 1997ء کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد ملزم اور مقتول کے ورثا کے درمیان 2018ء میں راضی نامہ ہوا تاہم عدالت میں مناسب معاونت نہیں کی گئی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی شریعت اپیلٹ بینچ نے نے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے اور چیف جسٹس نے ملزم کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اتنے سال جیل میں گزارنے پڑے اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چند فیصلوں میں راضی نامے کی بنیاد پر بریت کے حق میں جبکہ راضی نامے کی بنیاد پر ملزم کو بری کرنے کی مخالفت میں بھی فیصلے موجود ہیں تاہم اس معاملے پر کسی اور کیس میں اصول طے کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے