English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پیرس میںسو میڑ کی دوڑ کافیصلہ سیکنڈ کے پانچ سویں حصہ سے ہوا

القمر

سید پرویز قیصر
پیرس میں جاری اولمپک کھیلوں میں سو میٹر کی دوڑ کا فیصلہ سیکنڈ کے پانچ سو ویں حصہ سے ہوا۔ فائنل میں سبھی آٹھ کھلاڑیوں نے دس سیکنڈ سے کم وقت لیا۔ اولمپک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب فائنل میں سبھی آٹھ کھلاڑیوں نے دس سیکنڈ کا وقت لیا اور دوڑ کا فیصلہ سیکنڈ کے پانچ سو ویں حصہ ہوا جس کو فوٹو کے زریعے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکا کے نوح لایلز نے 9.784سیکنڈ کا وقت لیا اور طلائی تمغہ جیتا جبکہ جمائیکا کے کیشانے تھامسن نے نقرئی تمغہ 789 9. سیکنڈ وقت کے ساتھ حاصل کیا۔ تیسرا مقام امریکہ کے فریڈ کرلے نے حاصل کیا۔ ان کا وقت9.81 سیکنڈ رہا۔ بیس سال میں یہ پہلا موقع ہے جب امریکہاکے کھلاڑی نے اولمپک کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ نوح لایلز نے اپنی کیریر کی سب سے اچھی کارکردگی کے بعد امریکا کو بیس سال بعد طلائی تمغہ دلایا ہے۔ ان کا اولمپک کھیلوں میں یہ پہلا طلائی تمغہ بھی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے ٹوکیو میں200 میٹر کی دوڑ میں کانسہ کا تمغہ جیتا تھا۔ امریکا کے لئے ان سے پہلے آخری مرتبہ اولمپک کھیلوں میں سو میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغہ حاصل کرنے والے آخری کھلاڑی جسٹین گاٹلن تھے جنہوں نے2004 میں ایتھینس میں ہوئے اولمپک کھیلوں میں سو میٹر کی دوڑ میں پہلا مقام حاصل کیا تھا۔انہوں نے 9.85 سیکنڈ وقت لیا تھا جو اس مرتبہ پانچویں مقام پر رہنے والے اٹلی کے مرسیل جیکبس کا رہا۔ انہوں نے ٹوکیو میں ہوئے اولمپک کھیلوں میں9.80 سیکنڈ وقت کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا تھا۔
پیرس میں تیسرا مقام حاصل کرنے والے فریڈ کرلے نے ٹوکیو میں9.84 سیکنڈ وقت کے ساتھ دوسرا مقام حاصل کیا تھا۔ انہوں نے ابھی تک اولمپک کھیلوں میں دو مرتبہ شرکت کی ہے اور دونوں مرتبہ کوئی نہ کوئی تمغہ حاصل کیا ہے۔
اولمپک کھیلوں میںنوح لایلز نے بھلے ہی دو تمغہ جیتے ہو مگر عالمی چمپیئن شب میں وہ چھ طلائی اور ایک نقرئی تمغہ جیتنے میں کا میاب ہوئے ہیں۔انہوں نے چارطلائی تمغہ سو میٹر اور دو سو میٹر میں جیتے ہیں جبکہ4×100 میٹر ریلے میں انہوں نے دو مرتبہ طلائی تمغہ جیتے ہیں۔ ان کو واحد نقرئی تمغہ4×100 میٹر ریلے میں ملا ہے۔
سو میٹر کی دوڑ جیتنے والے مرد کھلاڑی کو کھیلوں کا سب سے تیز کھلاڑی مانا جاتا ہے ۔اسی طرح خواتین کی سو میٹر کی دوڑ جیتنے والی کھلاڑی کھیلوں کی سب سے تیز خاتون مانی جاتی ہے۔ پیرس اولمپک کھیلوں میں سب سے تیز خاتون ہونے کا اعزاز سینٹ لوسیا کی جولین الفریڈ نے حاصل کیا۔ انہوں نے سو میٹر کا فاصلہ10.72 سکنڈ میں پورا کیا۔ دوسرا مقام امریکا کی شا کاری رچرڈسن نے 10.87 سیکنڈ وقت کے ساتھ حاصل کیا۔ وہ اس دوڑ کی فیوریٹ تھی مگروہ 0.15 سکینڈ سست رہنے کی وجہ سے طلائی تمغہ حاصل نہیں کرسکی۔ کانسہ کا تمغہ امریکا کی ملیسا جیفرسن کو حاصل ہوا ۔ انہوں نے 10.92 سیکنڈ وقت کے ساتھ یہ مقام حاصل کیا۔ٹوکیو میں تینوں تمغہ جمائیکا کی کھلاڑیوں نے حاصل کئے تھے مگر اس مرتبہ جمائیکاکی ایک کھلاڑی نے فائنل میں داخلہ حاصل کیا تھا ۔ جمائیکا کی ٹیا کلائٹن نے11.04 سیکنڈ وقت کے ساتھ ساتواں مقام حاصل کیا۔
سینٹ لاسیا کا اولمپک کھیلوں میں یہ پہلا تمغہ تھا۔ اس نے پہلی مرتبہ1996 میں اٹلانٹا میں ہوئے اولمپک کھیلوں میں شرکت کی تھی تب سے پیرس اولمپک سے پہلے تھے اس کے کھلاڑیوں نے سات اولنپک کھیلوں میں حصہ لیا مگر کبھی کوئی تمغہ نہیں جیتا۔ اس مرتبہ اسکے چار کھلاڑی تین کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں مگر اس طلائی تمغہ کے علاوہ اگر کوئی تمغہ حاصل ہوتا ہے تو وہ خواتین کی200 میٹر کی دوڑ میں حاصل ہوسکتا ہے اور وہ تمغہ جولین الفریڈ جیت سکتی ہیں جنہوں نے 21.98 سیکنڈ وقت کے ساتھ فائنل میں دوڑنے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ سیمی فائنل میں ان کا وقت دوسرا سب سے کم وقت تھا۔ اس لئے وہ کم از کم نقرئی تمغہ کی حقدار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے