English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت ہمارے مطالبات سے اتفاق کرتی ہے لیکن مسائل حل کرنے کو تیار نہیں، حافظ نعیم

IMF's slavery document is named Budget

راولپنڈی:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ ہمارے دھرنے کا اولین مقصد عوام  کو ریلیف دلانا ہے، حکومت ہمارے مطالبات سے اتفاق بھی کرتی ہے لیکن جب مسائل کے حل کی تجاویز رکھتے ہیں تو یہ دائیں بائیں ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

راولپنڈی دھرنے کے 14 ویں روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے  کہا کہ ہماری مذاکراتی کمیٹی نے حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ اب آئی پی پیز کا دھندہ ختم کرنا ہوگا، ان معاہدوں کے نتیجے میں پاکستان کا برا حال ہو گیا۔ جعلی اور فراڈ معاہدوں سے قوم کو لوٹا گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان کاکہنا تھا کہ   بھاشہ ڈیم کی مد میں سالانہ 14 ارب وصول کیے جا رہے ہیں۔ ابھی ڈیم بنا نہیں اور پیسے قوم کی جیبوں سے نکالے جا رہے ہیں۔ حکومتی کمیٹی کو واضح کر دیا ہے کہ کوئی مبہم بات نہیں ہوگی۔ مطالبات کی منظوری کیلیے جو بات بھی طے ہوگی وہ تحریری شکل میں ہوگی اور اسکی پاسداری حکومت پر لازم ہوگی۔ عجیب بات ہے تنخواہ دار طبقہ اپنی تنخواہوں پر بھی ٹیکس ادا کرے اور پھر آٹا، چینی، دال، گھی اور ماچس کی ڈبیہ پر بھی ٹیکس دے۔

انہوں نے مزید کہاکہ   حکومت کو ڈبل ٹرپل ٹیکس کا نظام ختم کرنا ہوگا۔ یہ ٹیکس در ٹیکس کا نظام ختم کیا جائے۔ لوگ پریشان ہیں اور یہ لاوا کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ پھر حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔

حافظ نعیم الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ  حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مطالبات تسلیم کرے اور انارکی، افراتفری کی بجائے پرامن آئینی جدوجہد کو ویلکم کرے، ہم کوئی تخریب کاری کرنے نہیں آئے لوگوں کا حق لینے آئے ہیں اور اس میں ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا پیش نظر نہیں۔ اور نہ ہم مقدمات ختم کروانے آئے ہیں۔ تمام کے تمام 7 مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے اور اس سے کم پر کوئی بات نہیں بنے گی۔ ہم کوئی خیرات مانگنے نہیں آئے اپنا حق لینے آئے ہیں قوم مزید کتنا برداشت کرے گی یہ بات حکومت کو جتنی جلدی سمجھ میں آ جائے اتنا زیادہ بہتر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے