بنگلا دیش میں حالیہ طلبہ تحریک کے دوران ملک بھر میں قتل و غارت ہوئی۔ اس قتل و غارت کی بنیاد سرکاری ملازمتوں میں 56 فیصد کوٹے کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اشتعال تھا۔ طلبہ نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے تک نچلا نہ بیٹھنے کی قسم کھائی تھی۔ طلبہ تحریک نے بالآخر شیخ حسینہ کو چلتا کیا مگر اب بھارتی میڈیا کہانی کو اور ہی زاویہ دینے پر تُلے ہوئے ہیں۔
انڈیا ٹوڈے اور چند دوسرے میڈیا آؤٹ لیٹس تواتر سے یہ ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ بنگلا دیش میں ہندوؤں کو قتل کیا جارہا ہے، اُن کی املاک لوٹی جارہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ سراج گنج کے پولیس اسٹیشن میں 13 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے حوالے سے بھی ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ اُن میں 9 ہندو تھے اور اِسی لیے پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا گیا۔
انڈیا ٹوڈے نے اب 53 سال پرانے مُردے اکھاڑنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جو کبھی گاڑے بھی نہیں گئے تھے۔ مشرقی پاکستانی کو بنگلا دیش بنانے کی جو تحریک عوامی لیگ کے دہشت گرد اسٹوڈنٹ ونگ مکتی باہنی نے چلائی تھی اُس کی پشت پر بھارت تھا۔ بھارتی فوج نے بنگلا دیش میں داخل ہوکر پوری دنیا پر واضح کردیا تھا کہ یہ پورا ڈراما اُسی کا لکھا ہوا تھا اور اُسی کی ہدایت پر پیش بھی کیا گیا۔
انڈیا ٹوڈے نے خصوصی مضامین کا سلسلہ شروع کیا ہے جن میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ 1971 میں جب پاکستانی فوج نے سابق مشرقی پاکستان میں آپریشن شروع کیا تھا تب ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں آباد ہندوؤں کے لیے کسی بھی مرحلے پر کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ بنگالی بولنے والے تھے اور اُس وقت بنگالی بولنے والوں کی زندگی کسی بھی اعتبار سے خطرے میں نہ تھی۔ مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے غیر بنگالیوں کو چُن چُن کر مارا گیا۔ اُنہیں شہید کرنے والوں میں مقامی ہندو بھی پیش پیش تھے۔ مکتی باہنی کے غنڈوں میں ہندو بھی شامل تھے۔
انڈیا ٹوڈے کے خصوصی مضامین آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں کیونکہ 1971 میں مشرقی پاکستان کی سرزمین پر اگر کسی کے لیے جان کا خطرہ تھا تو صرف مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کے لیے جو بنگالی نہیں بول سکتے تھے۔ اُس ماحول میں مقامی ہندوؤں کے لیے تو کسی بھی مرحلے پر کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوا اور پاکستانی فوج نے بھی اپنے آپریشن کے دوران ہندوؤں کو نشانے پر نہیں لیا۔
حالیہ طلبہ تحریک کے دوران بھی کسی بھی مرحلے پر ہندوؤں کو نشانہ بنانے کا تو سوال ہی نہیں اٹھا۔ یہ تحریک پوری کی پوری شیخ حسینہ کے خلاف تھی۔ بھارت کے مرکزی خفیہ ادارے “را” کے 30 ایجنٹ پکڑے گئے ہیں مگر اس کے باوجود عام بنگالی ہندوؤں کے خلاف نفرت کی کوئی لہر نہیں اٹھی۔ جب یہ تحریک اپنے عروج پر تھی تب بھارتی میڈیا نے ایسی کچھ نہیں کہا کہ ہندوؤں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جب بھارتی قیادت کی حاشیہ بردار شیخ حسینہ کی حکومت کا دھڑن تختہ ہوگیا تب طلبہ تحریک کے قائدین اور اِس تحریک میں حصہ لینے والوں کو مطعون کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ طلبہ تحریک چلانے والوں نے ہندوؤں کو بھی نشانے پر لیا۔ یہ الزام اب اس لیے لگایا جارہا ہے کہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جائے کہ جو کچھ بھی بنگلا دیش میں ہو رہا ہے وہ بھارت اور ہندوؤں کے خلاف ہے۔
بھارتی قیادت اس بنگلا دیش میں کسی بھی ایسی حکومت کو دیکھنے کی روادار نہیں جو پاکستان یا کسی اور اسلامی ملک کی طرف واضح جھکاؤ رکھے یا چین اور روس کی طرف دیکھنے کی قائل ہو۔

