بنگلا دیش کی معزول وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد نے وطن واپسی کا عندیہ دیا ہے۔ یہ بات اُن کے بیٹے سجیب واجد نے نیوز چینل آج تک بنگلا دیش سے انٹرویو میں بتائی۔ سجیب کا استدلال ہے کہ اُن کی والدہ کے حوالے سے محض قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں یا گمراہ کن باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔
سجیب کا کہنا ہے کہ اُن کی والدہ نے کسی بھی ملک میں سیاسی پناہ کے لیے باضابطہ درخواست نہیں دی۔ وہ بھارت ہی میں قیام پذیر رہنے کا ارادہ رکھتی ہیں مگر زیادہ دیر نہیں۔ وہ وطن واپس آکر حالات کا سامنا کرنا چاہتی ہیں۔ عوامی لیگ کو اُن کی ضرورت ہے اور وہ واپس آکر اپنی پارٹی کو منظم کریں گی۔
سجیب کا کہنا ہے کہ بنگلا دیش میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے کیونکہ اِتنی خرابی سے غریب عوام کی مشکلات بڑھیں گی، کم نہیں ہوں گی۔ قتل و غارت کا سلسلہ روکا جانا چاہیے۔
پولیس اعتماد سے محروم ہوچکی ہے۔ پولیس اہلکار احکامات جاری کیے جانے کے باوجود ڈیوٹی پر واپس آنے کے لیے تیار نہیں۔ انتظامی ڈھانچا کمزور پڑچکا ہے۔ مقامی سطح پر بھی انتظامیہ میں دراڑیں پڑی ہوئی ہیں۔
سجیب کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش کے ہندو صرف عوامی لیگ کے اقتدار ہی میں محفوظ رہ سکتے ہیں، پنپ سکتے ہیں۔ ملک کو حقیقی سیاسی و معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ لازم ہے کہ انتظامی معاملات کی درست پر خاطر خواہ توجہ دی جائے۔
واضح رہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش میں تبدیل کرنے کی تحریک کے دوران، بظاہر بھارت کی ایما پر، مقامی ہندوؤں نے عوامی لیگ اور مکتی باہنی کے غنڈوں کا کُھل کر ساتھ دیا تھا۔
تب سے اب تک عوامی لیگ روایتی طور پر ہندوؤں کو نوازتی آئی ہے۔ ایک ہفتے قبل ختم ہونے والے عوامی لیگ کے 15 سالہ اقتدار کے دوران بھی بنگلا دیش کے ہندو بہت اچھی پوزیشن میں رہے، سرکاری وسائل سے جی بھرکے مزے لُوٹے۔ اب اُنہیں عوام کے غیظ و غضب کا سامنا ہے۔
بنگلا دیش میں اس وقت عوامی لیگ کے دورِ اقتدار میں سرکاری وسائل کو ڈکارنے والوں کو شدید عوامی اشتعال کا سامنا ہے۔ جن لوگوں نے کرپشن کے ساتھ ساتھ بدمعاشی بھی بہت کی تھی اُنہیں چُن چُن کر مارا جارہا ہے۔
پولیس بھی ایک طرف ہٹ گئی ہے۔ جن لوگوں نے شیخ حسینہ کے دوران میں سرکاری وسائل پر خوب ہاتھ صاف کیا اُن میں ہندو بھی نمایاں ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اب اُنہیں عوام بخشنے کو تیار نہیں۔
بنگلا دیش میں ہندوؤں کو نہیں بلکہ کرپٹ عناصر کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بنگلا دیش کے مخالفین یہ تاثر دینے کی کوشش کر رے ہیں کہ بنگلا دیش میں اس وقت اقلیتوں کو نشانے پر رکھا جارہا ہے۔

