لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ معاہدے کی ہر شق پر عمل کرائیں گے، کسی کو بھاگنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
مقامی ہوٹل میں ٹی وی پروڈیوسرز کے ساتھ ایک نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت سے ہونے والے معاہدے کی ایک ایک شق پر عمل کرائیں گے۔ عوام کو ریلیف دینے سے فرار ہوئے تو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا ہوگا۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ ہماری تحریک جاری رہے گی، ملک بھر میں جلسوں کا شیڈول تیار کیا جا رہا ہے۔ کسی کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔عوام کا مقدمہ پوری قوت سے لڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ ہو گا اور کپیسٹی چارجز کی مد میں ہونے والی بچت کا براہ راست فائدہ بجلی کے بلوں میں جائے گا۔ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت کو پابند کیا ہے کہ جاگیرداروں پر ٹیکس لگایا جائے۔ معاہدے پر عمل کی مقررہ مدت کے دوران ملک گیر جلسوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ 14 اگست کو ملک گیر ہڑتال کی تاریخ دوں گا۔ معاہدے پر عمل نہ کیا گیا تو بجلی بلوں کے بائیکاٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں 11 اگست کو جلسہ ہو گا، جس میں اقلیتوں کو بھی مدعو کریں گے اور اقلیتوں کا دن منایا جائے گا۔ اسی طرح پشاور میں 12 اگست اور ملتان میں 16 اگست کو عوامی جلسے ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومتی جماعتیں لوٹ مار میں مصروف ہیں، یہ لوگ ویسے بھی فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آئے۔ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنی اپنی پڑی ہے۔ جماعت اسلامی نے خالصتاً عوام کے ایشوز کو اجاگر کیا ہے۔ دھرنے دوران عوامی مسائل پر پورے میڈیا میں بحث کا آغاز ہوا جو اس سے پہلے شاذ و نادر ہی ہوا کرتا تھا۔

