بنگلا دیش کی سابق وزیرِاعظم گزشتہ پیر کو انتہائی بدحواسی اور گھبراہٹ کے عالم میں ایک ملٹری جیٹ میں ڈھاکہ سے بھاگ کر نئی دہلی کے نزدیک غازی پورٹ پہنچی تھیں۔ شیخ حسینہ کے ساتھ اُن کی ٹیم کے ارکان بھی تھے۔
بھارت میں شیخ حسینہ کا قیام طُول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ کہاں جائیں گی، کس ملک میں پناہ لیں گی مگر اِتنا طے ہے کہ فوری طور پر وہ کہیں نہیں جائیں گی تاہم اُن کی ٹیم کے ارکان بھارت سے کھسک رہے ہیں۔
شیخ حسینہ کے ٹیم کے جن لوگوں کے پاس سفارتی پاسپورٹ ہیں یا جن کے پاس دُہری شہریت ہے وہ بھارت سے نکل رہے ہیں۔ بھارت میں اُن کے لیے سیکیورٹی کے مسائل ہوسکتے ہیں کیونکہ بنگلا دیشیوں کا بھارت میں داخل ہوکر اُن تک پہنچنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔
شیخ حسینہ کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہیں سربراہِ حکومت والا پروٹوکول دیا جارہا ہے تاہم اُن کی ٹیم کے ارکان میں عدم تحفظ کا شدید احساس پایا جاتا ہے۔
شیخ حسینہ واجد نے اب تک طے نہیں کیا کہ وہ بھارت میں کب تک قیام کریں گی یا بھارت سے کس ملک کا رخ کریں گی۔ ان کا بیٹا سجیب واجد بھارتی میڈیا کو دیے جانے والے انٹرویوز میں متضاد باتیں کر رہا ہے۔ کبھی وہ کہتا ہے کہ بنگلا دیش کے عوام نے اس کی ماں سے اچھا سلوک نہیں کیا اور کبھی کہتا ہے کہ اس کی ماں بہت جلد بنگلا دیش پہنچ کر عوام سے رابطہ کریں گی اور دوبارہ سیاست میں حصہ لیں گی۔

