مسلمانوں کے شدید احتجاج کے باوجود مودی سرکار بضد ہے کہ ملک بھر میں وقف بورڈز کی املاک کے معاملات میں مداخلت کرے گی اور رجسٹریشن مرکزی حکومت کی زیرِنگرانی کی جایا کرے گی۔
مودی سرکار نے دو دن قبل پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں لوک سبھا میں وقف بوردز ترمیم بل پیش کیا ہے جس کا بنیادی مقصد وقف کی املاک سے متعلق امور میں مرکزی حکومت کی مداخلت یقینی اور مضبوط بنانا ہے۔
اب طے کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے 31 ارکان پر مشتمل پینل اس بل کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لے گا اور ضرورت کے مطابق اپنی سفارشات بھی پیش کرے گا۔ اس پینل میں پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے 21 ارکان اور ایوانِ بالا راجیہ سبھا سے 10 ارکان شامل ہیں۔
لوک سبھا میں اس بل پر اظہارِ خیال کے دوران مرکزی وزیرِداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بل کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کسی کو پریشان کرنا چاہتی ہے نہ پابندی ہی عائد کرنے کی خواہش مند ہے۔ انہوں نے بل پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا کچھ لوگ خواہ مخواہ تنازع کھڑ کر رہے ہیں۔
مودی سرکار کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ حکومت مساجد کے امور میں کسی بھی طور مداخلت نہیں کرے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بل کے ذریعے صرف مسلمانوں کو نشانے پر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بل کو سراسر غیر آئینی قرار دیا ہے۔
اس پینل میں لوک سبھا کے 21 ارکان میں صرف چار (اسد الدین اویسی، محمد جاوید، عمران مسعود اور مولانا محب اللہ) ہیں۔

