راولپنڈی۔ (نمائندہ خصوصی):ٹیسٹ فاسٹ بولر محمد علی نے کہا ہے کہ ٹیم میں کم بیک کرنا آسان نہیں ہوتا اس کے لیے آپ کو نئے سرے سے شروع کرنا ہوتا ہے اور کارکردگی دکھانا ہوتی ہے لیکن ان کے لیے یہ اتنا مشکل نہیں کیونکہ انہوں نے زندگی میں کئی اتار چڑھا دیکھ لیے ہیں، محمد علی نے 2 سال قبل انگلینڈ کے خلاف 2 ٹیسٹ کھیلے تھے اور اب انہیں بنگلا دیش کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، اس سے قبل وہ بنگلا دیش اے کے خلاف پہلا 4 روزہ میچ بھی کھیلیں گے، محمد علی نے پی سی بی ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم سے ڈراپ کیا جانا اس سوچ کے ساتھ تسلیم کیا تھا کہ شاید اس وقت وہ اس بڑے اسٹیج کے لیے تیار نہیں تھے اس لیے وہ وہاں اچھا پرفارم نہ کر سکے اس کے بعد انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی اور اچھی کارکردگی دکھائی ، یہ اسی کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ انہیں دوبارہ موقع ملا ہے، محمد علی نے گزشتہ ماہ پاکستان شاہینز کی طرف سے بنگلا دیش اے کے خلاف ڈارون کے 4 روزہ میچ میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔، ان کا کہنا ہے کہ ڈارون ٹور میں اچھی بولنگ کے باوجود وہ پہلے میچ کی دونوں اننگز اور پھر دوسرے میچ کی پہلی اننگز میں وکٹیں نہیں لے سکے تھے لیکن انہیں یقین تھا کہ وہ دوسری اننگز میں اچھی کارکردگی دینے میں کامیاب رہیں گے، محمد علی نے کہا کہ وہ اپنے کوچ اور مینٹور منصور امجد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے قدم قدم پر ان کی رہنمائی کی اور ان کے بولنگ ایکشن اور دوسرے پہلوں کو درست کرنے میں بڑی مدد کی ہے۔
