بنگلا دیش کی صورتِ حال کے حوالے سے بھارتی ٹی وی چینل اور نیوز ویب سائٹس جو کچھ شائع کر رہی ہیں اُس نے کینیڈا کے لیے بھی غیر معمولی دردِ سر کی شکل اختیار کرلی ہے۔
آج کل بھارتی میڈیا پر یہ پرپیگنڈا زور و شور سے کیا جارہا ہے کہ بنگلادیش کے طول و عرض میں ہندوؤں پر حملے تیز ہوتے جارہے ہیں اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ شیخ حسینہ کی حکومت کے جانے کی دیر تھی، ہندوؤں کو چُن چُن کر نشانے پر لیا جارہا ہے۔
بھارتی میڈیا یہ تاثر بھی پروان چڑھارہے ہیں کہ بنگلا دیش راتوں رات اسلامی شدت پسند ریاست میں تبدیل ہوگیا ہے اور وہاں کی اسلامی جماعتیں ملک میں شریعت نافذ کرنے کے نام پر مظالم ڈھارہی ہیں۔
بنگلا دیش کے ہندوؤں پر مظالم کے حوالے سے بھارتی میڈیا اس قدر شور مچارہے ہیں اور اِتنا ڈھول پیٹ رہے ہیں کہ اب کینیڈا میں بسے ہوئے بھارتی نژاد ہندو اُن سے اظہارِیکجیتی کے لیے گھروں سے نکل رہے ہیں۔ کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورونٹو میں ہندوؤں نے بنگلا دیشی ہندوؤں کے لیے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین سے خطاب کرنے والوں نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد کی صورتِ حال کے حوالے واویلا کرتے ہوئے کہا کہ کسی جواز کے بغیر ہندوؤں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بنگلا دیشی ہندوؤں سے اظہارِیکجہتی کرنے والون کا مطالبہ تھا کہ کینیڈین حکومت بنگلا دیش کے ہندوؤں کا تحفظ یقینی بنانے کے سلسلے میں وہاں کی عبوری حکومت سے رابطہ کرے۔
کینیڈین حکومت کے لیے بھارتی نژاد ہندوؤں کا احتجاج اضافی دردِ سر ہے کیونکہ خالصتان نواز سِکھوں اور بھارتی نژاد ہندوؤں کے درمیان پہلے ہی کشیدگی چل رہی ہے۔ اگر بنگلا دیش میں ہندوؤں کو نشانہ بنانے کے بھارتی پروپیگنڈے کے زیرِاثر کینیڈا کے بھارتی نژاد ہندوؤں نے احتجاج جاری رکھا تو اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان بھی کشیدگی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

