English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی میڈیا نے “بنگالی شناخت” کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا

نئی دلی: بنگلا دیش کی صورتِ حال مزید گنجلک ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف ہندوؤں کو نشانہ بنانے کا راگ الاپا جارہا ہے اور دوسری طرف یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ بنگلا دیش کے باشندے اپنی بنگالی شناخت کو داؤ پر لگانے کے لیے تیار نہیں۔ یہ سب کچھ بھارتی میڈیا پر ہو رہا ہے۔

چند روز میں بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس بنگلا دیش کی سرزمین پر موجود اپنے نمائندوں کے ذریعے ٹی وی کے ایسے پیکیجز تیار کروارہے ہیں جن کے ذریعے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ عام بنگلا دیشیوں نے شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے عمل کو مسترد کردیا ہے۔

جماعتِ اسلامی اور دیگر اسلامی اور ہم خیال جماعتوں کو بالخصوص نشانے پر لیا جارہا ہے۔ انڈیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں چند بنگلا دیشی باشندوں سے انٹرویو کیے گئے ہیں۔ ان لوگوں نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی ملک میں اسلامی شریعت نافذ کرنے کے درپے ہے مگر ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ہم اپنی بنگالی شناخت کو کسی بھی طور داؤ پر نہیں لگانا چاہتے۔

بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ اپنا کام انتہائی باریکی سے کر رہے ہیں۔ بنگلا دیش کی صورتِ حال کے تجزیے کے نام پر دنیا کو باور کرایا جارہا ہے کہ بنگلا دیش میں ایک منتخب حکومت ڈھنگ سے کام کر رہی تھی، ملک ترقی کر رہا تھا، عوام کے مسائل حل ہو رہے تھے کہ سازش کے تحت حکومت کا دھڑن تختہ کردیا گیا اور اب بنگلا دیش کا مستقبل یکسر غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

انڈیا ٹوڈے نے ایسی تصویریں شائع کرنا شروع کردیا ہے جن میں داڑھی والے اور سر پر ٹوپی سجائے ہوئے بنگلا دیشی مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنی بنگالی شناخت پر فخر ہے اور ہم اِس سے کسی بھی صورت دست بردار نہیں ہوں گے۔

یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹ جماعتِ اسلامی اور اُس کے اسٹوڈنٹ ونگ اسلامی چھاترا شِبر کو خاص طور پر مطعون کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے کہ شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ صرف جماعتِ اسلامی نے اُلٹا ہے اور ملک کو سیاسی و معاشی غیر یقینیت اور عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔

بنگلا دیش میں ہندوؤں کو نشانہ بنانے کا تاثر پوری دنیا میں پھیلانے کے لیے بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس پر اس قدر کام ہو رہا ہے کہ اب بنگلا دیش کا بحران کینیڈا تک پہنچ گیا ہے۔ کینیڈا میں بھارتی نژاد ہندوؤں نے مظاہرے شروع کردیے ہیں۔ اس کے کینیڈا میں بسے ہوئے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فاصلے پیدا ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کینیڈا میں بھارتی نژاد ہندوؤں اور خالصتان نواز سِکھوں کے درمیان پہلے ہی شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال سے کینیڈین حکومت بھی پریشان ہے۔

بھارتی میڈیا آؤٹ لیٹس صورتِ حال کی نزاکت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بنگلا دیش کے ہندوؤں کو زیادہ سے زیادہ مظلوم اور مصیبت زدہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ غزہ کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھی تو یورپ اور امریکا میں بھی بھرپور احتجاج ہوا ہے جس میں تمام کمیونٹیز نے حصہ لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ کی صورتِ حال اور بنگلا دیش کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے