English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

شیخ حسینہ سمیت سات سابق اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف قتل کی عدالتی تحقیقات کا آغاز

ویب ڈیسک _ بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اور ان کی حکومت میں شامل چھ اعلیٰ سطح کے عہدیداروں کے خلاف قتل کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق مقامی وکیل مامون میاں کے توسط سے ایک پرائیوٹ شہری نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان، عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبید قادر سمیت پولیس کے چار اعلیٰ افسران کے خلاف ایک شخص کو قتل کرنے کا مقدمہ چلانے کی درخواست کی گئی ہے۔

ڈھاکہ میٹروپولیٹن کورٹ نے مذکورہ درخواست پر پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف قتل کی تحقیقات کا آغاز کرے۔

عدالتی احکامات کا آنا بنگلہ دیش کے قانون میں کسی کے بھی خلاف فوجداری مقدمہ شروع ہونے کا پہلا قدم ہے۔




سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کوٹہ سسٹم کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد گزشتہ ہفتے ملک چھوڑ کر بھارت منتقل ہو گئی تھیں جب کہ مظاہروں اور حکومت کے خاتمے کی کارروائی کے دوران ‘اے ایف پی’ کے مطابق 450 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سابق وزیرِ اعظم اور سابق عہدیداروں کے خلاف گروسری اسٹور کے مالک کے قتل کا الزام ہے جو حکومت مخالف احتجاج کے دوران 19 جولائی کو گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

بنگلہ دیش کے مقامی اخبار ‘دی ڈیلی اسٹار’ کے مطابق سابق وزیرِ اعظم کے خلاف مقدمہ متاثرہ شخص کے ایک ‘خیر خواہ’ امیر حمزہ شاتل کی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔


 ڈھاکہ میں مظاہرین بنگلہ دیش کے سابق چیف جسٹس عبیدالحسن کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ، فوٹو رائٹرز 10 اگست 2024

 ڈھاکہ میں مظاہرین بنگلہ دیش کے سابق چیف جسٹس عبیدالحسن کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ، فوٹو رائٹرز 10 اگست 2024

شیخ حسینہ کی حکومت پر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات ہیں جن میں ہزاروں سیاسی مخالفین کی ماورائے عدالت قتل کے الزامات بھی شامل ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ بریگیڈیئر جنرل ریٹائرڈ سخاوت حسین کا کہنا ہے کہ حکومت کا عوامی لیگ پر پابندی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ شیخ حسینہ کی جماعت نے ملک کی آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ کی بنگلہ دیش کے لیے کئی خدمات ہیں جس کا ہم انکار نہیں کرتے۔ جب انتخابات ہوں گے تو اسے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔

اس خبر کے لیے معلومات خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ سے لی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے