لاہور (وقائع نگارخصوصی )امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ایک سال میں 14مرتبہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر کے صارفین پر 455ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا جبکہ اداروے کی نا اہلی کی بدولت ملک میں 500 ارب روپے کی سالانہ بجلی چوری ہو جاتی ہے جس کا بوجھ حکومت اور آئی پی پیز برداشت کرنے کے بجائے غریب عوام پر ڈال دیتے ہیں۔ غریب عوام کو ظالم حکمران، کرپٹ مافیا اور آئی پی پیز مل کر لوٹ رہے ہیں۔ ملک و قوم اس وقت بد ترین حالات سے دوچار ہیں۔ نا مساعد حالات کی وجہ سے عوام مایوس ہو چکے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی معاشی پالیسیاں فراڈ‘ اشرافیہ کومزید مراعات دیں اور عوام پر ٹیکسوں کی بھر مار کی‘ مہنگائی میں کمی کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے،حکمرانوں نے مہنگائی کی حد کر دی، آئے دن بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ لوگ ملکی حالات سے تنگ آکر بیرون ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی بدحالی، غربت،لاقانونیت، آئین کی پامالی، زرد جمہوریت، کرپشن، بد انتظامی، علاقائی تعصب اور جبر و فسطائیت جنگل کی آگ کی طرح مسلسل پھیل رہے ہیں۔ پی ڈی ایم ون، ٹو اور کیئر ٹیکرز کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ مہنگائی، لوڈشیڈنگ،بے روزگاری اور بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے پاکستانی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بد ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے کہا کہ ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کی خاطر جماعت اسلامی سڑکوں پر ہے، ہم حکومت سے کیے گئے معاہدے کا ایک ایک دن گن رہے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف عوام کو زبانی کلامی نہیں بلکہ عملاً ریلیف فراہم کر یں۔ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔لوگوں میں مزید سکت نہیں کہ وہ ٹیکسوں کا یہ بوجھ برداشت کر سکیں۔دیوالیہ ہونے کے باوجود سری لنکا کی مجموعی برآمدات جی ڈی پی کے 30فیصد تک پہنچ ہوچکی ہے جبکہ پاکستان کی مجموعی برآمدات جی ڈی پی کے صرف 12فیصد تک ہیں۔
