
لندن(انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ کی عدالت نے مسجد کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والی خاتون کو قید کی سزا سنا دی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ کے علاقے ساؤتھ پورٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے دوران مسلمانوں اور مسجد سے متعلق نفرت انگیز پوسٹ کرنے والی 53 سالہ خاتون کو 15 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔ سزا پانے والی خاتون جولی سیوینی نے بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر پوسٹ غصے میں کی تھی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پوسٹ کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا نہیں تھا۔ اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کردوں گی۔ دوسری جانب ساؤتھ پورٹ میں چاقو حملے میں بچیوں کی موت کے بعد ہونے والے فسادات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ برطانوی عدالت نے نسل پرستی اور ہجوم کو اکسانے کے الزام میں 2افراد 26 سالہ کونر وائیٹلی اور 49 سالہ ٹریور لائیڈ کو 3،3 سال قید کی سزا سنا دی۔ جنوبی یارک شائر میں 60 سالہ گلین گیسٹ کو پولیس اہلکار کو گھسیٹنے کے الزام کے جرم 2 سال اور 8 ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی ،جب کہ برسٹل میں 34 سالہ ڈومینک کپالڈی کو ہنگامہ آرائی پر 34 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔یاد رہے کہ برطانیہ میں نسلی فسادات کی ابتدا اس ہوئی جب ساؤتھ پورٹ میں چاقو بردار مسلح شخص کے حملے میں 3بچیاں ہلاک ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پرافواہ پھیلائی گئی کہ حملہ آور نوجوان ایک شامی مہاجر تھا،جس پر انتہاپسند افراد نے مہاجرین اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع کی اور مساجد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کی جانب سے مساجد کی حفاظت کا اعلان کیا گیا اور شرپسندوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے جلد از جلد سزاؤں کی ہدایت کی گئی تھی۔
