
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی حکام نے یوکرینی فوج کی پیش قدمی کے بعد بلگورود میں ہنگامی حالت کا اعلان کردیا۔ بلگورود روس کا دوسرا علاقہ ہے جس نے 10 روز کے دوران میں ایمرجنسی نافذ کی ہے۔6 اگست کو یوکرین نے روسی علاقوں پر اچانک حملے تیز کر دیے اور دعویٰ کیا کہ وہ روسی سرحد کے اندر کرسک کے 1000 مربع کلومیٹر علاقے میں داخل ہو گیا ہے۔ یوکرینی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس نے رات بھر روس کی طرف سے فائر کیے گئے 23 ڈرون میں سے 17 کو مار گرایا ہے۔ یوکرین نے کہا ہے کہ روسی فوج نے 2گائیڈڈ میزائل بھی فائر کیے تھے۔ یوکرین کی فضائیہ کے مطابق یہ ڈرون کیف، خارکیف ، چرکاسی، میوکلیو، سومی، زاپوریزیا، زیتومیر کے علاقوں میں گرائے گئے ہیں۔ ڈرون حملوں میں عمارتوں کو نقصان پہنچا لیکن اس سے زیادہ نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس نے روس سے 74 قصبوں اور دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ ادھر بلگورود کے گورنر نے کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے بمباری کے باعث مکانات تباہ ہو رہے ہیں اور عام لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے یوکرینی افواج کے حملوں کے بعد بے گھر ہونے والے 30ہزار افراد کے لیے پورے روس میں 400 پناہ گاہیں کھول دی ہیں،جب کہ 60 ہزار افراد کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب یوکرینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یوکرین کرسک میں نہیں اترنا چاہتا لیکن جب روس امن چاہے گا تو وہ وہاں اپنے حملے بند کر دے گا۔ انہوں نے کہاکہ جیسے ہی روس امن کی منظوری دے گا، روسی سرزمین پر حملے بند کر دیے جائیں گے۔ جب تک پیوٹن جنگ جاری رکھیں گے، وہ یوکرین کی طرف سے یہی ردعمل دیکھیں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کارروائیوں اور پیش رفت سے یوکرینی افواج کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے یوکرین کے خلاف نئے خطرات پیدا ہوں گے۔
